مسیحیت – Zindagi TV https://zindagitv.online Pakistan Mon, 23 May 2022 12:16:07 +0000 ur hourly 1 https://zindagitv.online/wp-content/uploads/2024/08/cropped-WhatsApp-Image-2024-08-22-at-1.07.04-PM-1-32x32.jpeg مسیحیت – Zindagi TV https://zindagitv.online 32 32 اسلام اور مسیحیت میں گناہ https://zindagitv.online/tv-shows/%__tv_shows_id%/ https://zindagitv.online/tv-shows/%__tv_shows_id%/#respond Mon, 23 May 2022 12:16:02 +0000 http://ztv.altarik.net/?p=17358 Read more »]]> بہت سے لوگ اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ تمام مذاہب ایک ہی طرح کی اخلاقی تعلیم دیتے ہیں اور  ان کے درمیان معمولی نوعیت کے اختلافات ہیں۔ حقائق کی تفہیم جہاں ہم پر جنابِ مسیح اور محمد اور اللہ کے مابین سطحی مماثلت سے متعارف کرواتی ہے، وہیں، تعلیمات کے مابین واضح خلیج کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے۔ نتیجتاً ان عقائد کی رو سے اعمال بھی اختلاف کا شکار ہوتے ہیں۔

اسلام میں گناہ کی بنیادیں:

اسلام میں اللہ گناہ کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

گناہ کی سنگینی اور مسیحیت :گناہ کے برے میں مسیحیت میں کوئی دہرا معیار نہیں، پاکیزگی خدا کا واحد معیار ہے۔ 

 احبار 11:45 اور 19:2 اور 1-پطرس 1:16 میں لکھا ہے مقدس ہونا کیونکہ میں قدوس ہوں ،  پھر فرمان آیا ہے کہ ” کیونکہ میں خداوند لاتبدیل ہوں ” ملاکی 3:6؛ عبرانیوں کے نام خط  اس کے 13 باب اس کی 8 آیت، اور رومیوں میں یوں لکھا ہے کہ ” سب نے گناہ کیا اور خدا کے جلال سے محروم ہیں ، ”  (رومیوں کے نام خط 3:23)

زناکاری بائبل میں سختی سے منع ہے (متی 5 باب اس کی 27 تا 28 آیات) جبکہ اس کے برعکس اسلام میں محدود نوعیت کی زنکاری جائز ہے (سورۃ 24 اس کی 33 آیت؛ 4:24؛ 33:37)

مسیحیت کے برعکس اسلام میں تمام گناہ یکساں طور پر غلط نہیں۔ گناہوں کو بہت سے درجوں میں تقیسم کردیا گیا ہے(اگرچہ مشکلات کا شکار ہے) ، لیکن بنیادی طور پر دو اقسام ہیں، گناہ کبیرہ ، اور گناہ صغیرہ۔ گناہِ کبیرہ کی فہرست کافی بڑی ہے مگر عمومی طور پر انکی فہرست کچھ یوں ہوگی:

1۔ شرک کرنا

2۔ جادوگری کرنا

3۔ غیرشرعی وجہ کے قتل کرنا

4۔ سود کا استعمال (زیادہ شرح کے ساتھ قرضہ فراہم کرنا)

5۔ کسی یتیم کی ورثہ پر ناجائز قبضہ کرنا

6۔ جنگ (جہاد) میں پیٹھ دکھانا

7۔ماں باپ کے حکم کی نافرمانی کرنا

8۔ جھوٹی گواہی دینا (جھوٹ بولنا)

9۔ غربت و افلاس کی بنا پر اپنے بچوں کو قتل کرنا ممنوع ہے

10۔ ہمسایہ کی بیوی سے ناجائز تعلقات رکھنا (زناکاری)

11۔ شراب پینا

12۔ جوا کھیلنا

باوجود اس کے کہ یہ سب گناہ کبیرہ کے زمرے میں آتے ہیں، تعلیمات ِ محمدی کے مطابق یہ گناہ سنجیدہ نوعیت کے نہیں۔

جیسے ہم اوپر ذکر کر چکے ہیں، زنکاری حرام ہے، زنا (سورۃ 24:33) اور متاع (سورۃ 4:24) کی اجازت ہے۔ پس اسلام میں گناہ کی حساس نوعیت اور تعلیم  کے بارے میں اختلاف پایا جاتاہے۔  مثال کیطور پر زمینی زندگی میں شراب حرام ہے ـسورۃ 5 اس کی 90 تا 91 آیتہ، لیکن اسلام جو جنت پیش کرتا ہے ، اس میں شراب دستیاب ہے (سورۃ 56:18؛ 76:5، اور 17؛ 78:34) ۔ دنیا میں 4 بیویاں رکھنے کی اجازت ہے ( مختصر وقت کے لئے بیویوں اور حرموں کے علاوہ) اور زناکاری کی بھی (سورۃ 4:3) لیکن جو تصورجنت اسلام میں رائج ہے ، اس میں 72 حوریں بمطابق ( ترمزی ، حدیث نمبر 1067، 1494 ؛ سوفٹ وئیر عالم) ، اور دیکھئے سورۃ 56 اس کی 22 تا 40 آیات، اور سورۃ 55:72 پر ابن کثیر کی تفسیر ) اور لڑکوں کے حوالے سے (سورۃ 52 اس کی 24 ؛ 56:17؛ 76:19)

عام طور پر جھوٹ بولنا حرام ہے، لیکن تکیہ کے عقیدہ کی رو سے مسلمان کو یہ شرعی طور پر یہ حق حاصل ہے کہ غیر مسلموں سے جھوٹ بول سکیں۔ محمد کا ایمان تھا کہ جھوٹ بولنا جائز تھا، ” انشااللہ، اگر میں کوئی کام کرنے کے کسی سے عہد باندھوں، اور ایسا محسوس کروں کہ کچھ اور زیادہ قابلِ ضرورت ہے تو میں جو زیادہ مناسب معلوم ہوگا، وہ کرنے کو ترجیح دونگا اور اپنی وعدہ خلافی کی تلافی کردونگا” ( البخاری، حدیث 361: جلد نمبر 4) سورۃ 66:2 کیمطابق اللہ کی جانب سے مسلمان وعدوں کی پاسداری سے مبرا ہیں۔

جھوٹ بولنا جائز ہے کیونکہ اللہ دھوکہ دے سکتاہے۔ اللہ تعالی خود کو سب سے بڑا چالباز گردانتا ہے، "خوب چال چلنے والا” (سورۃ 3:54؛ 8:30) اور لوگوں کو گمراہ کردیتا ہے، (سورۃ 4:88اور 143؛ 7:178اور 186؛ 13:27) قتال بظاہر جرم ہے ، لیکن فتنہ کو ختم کرنے کے لئے اس کی اجازت دی گئی ہے ( سورۃ 2:191؛ 2:217) یا کفر (سورۃ 8:39) ۔ یہانتک کہ مسلمانوں کو یہ ہدائیت دی گئی کہ اگر کوئی اپنے دین کو چھوڑ کر اسلام قبول نہ کرے تو وہ واجب القتل ہے، (9:5) پس اگر کوئی اسلام قبول نہیں کرتا یا فتنہ کو فرو کرنے کی ضرورت پیش آئے تو قتال کی اجازت ہے۔ کفار کے قتل کی کوئی سزا نہیں ( البخاری، حدیث نمبر 283 جلد نمبر 4)۔

گو کہ جادوگری گناہ ہے مگر محمد نے اس کی اجازت دی۔ (مسلم ، حدیث نمبر 5449، 5452، 5456، جلد نمبر 26) عظیم گناہوں سے میں یہ رویہ مدنظر رکھتے ہوئےدیکھتے ہیں کہ محمد نے نہ صرف بچوں کو اپنے والدین کی فرمانبردای سے ممانعت کی تعلیم دی بلکہ انہیں والدین کی قربت سے بھی محروم کردیا۔ ( سورۃ 9:23)

باوجود ان تمام بے ضابطگیوں اور بے ربط کے اللہ گناہ کی ضرورت پرپرزور تائید کرتا دکھائی دیتا ہے ۔ 

"اس ذات باری تعالی کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، اگر تم گناہ نہ کرو ، تو اللہ تمہارا نام و نشان ہی مٹا ڈالیگا، اور ان جیسا کردیگا وہ گناہ کرتے اور پھر اللہ سے  معافی کے طلبگار ہوتے ہیں اور اللہ بڑا معاف کرنیوالا ہے ، (مسلم ، حدیث نمبر 6622، 6621، کتاب نمبر 37، جلد نمبر 4)

یہاں یہ بات واضع ہو جاتی ہے کہ اللہ کے ہاں گناہ کتنا اہمیت کا حامل ہے ، کہ اگر آپ گناہ نہ کریں تو آپ کو صحفہ ہستی سے مٹا ڈالا جائیگا۔ گناہ کرنا مسلمانوں کے لئے لازم قرار دیدیا گیا ہے، تا کہ وہ توبہ کی طرف مائل ہوں اور بخشے جائیں۔

تو پھر مسلمان کس طرح سے جنت میں داخل ہونگے؟

اللہ مسلمانوں کے گناہ اور نیکیاں پلڑے میں تولتا ہے، (سورۃ 7اسکی 8 تا 9 آیات؛ 21:47؛ 23 اس کی 101 تا 103 آیات) اگر عمل صالح، برے اعمال سے زیادہ ہوں تو جنت میں داخلہ یقینی ہے۔ اس سلسلہ میں مسلمانوں کی مدد کے لئے اللہ فرماتا ہے ” جو صغیرہ گناہوں کے سوا بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں۔ بےشک تمہارا پروردگار بڑی بخشش والا ہے۔” (سورۃ 53:32)نیک اعمال، گناہوں کو مٹا دیتے ہیں (سورۃ 5:39؛ 11:114؛ البخاری ، حدیث نمبر 504، جلد نمبر 1) اس جہاں میں سزا کا مطلب، اگلے جہاں میں کوئی سزا نہیں (البخاری،حدیث نمبر 17، جلد نمبر 1)

علاوہ ازیں، قرآن کا ہر حروف جو عربی میں پڑھا جائے، دس نیکیوں کے مترادف ہے، یعنی عربی میں قرآن پڑھنے والوں کے حصہ میں دس نیکیاں ڈال دی جاتی ہیں

(ترمزی ، حدیث نمبر 2327، جلد نمبر 3) عمل صالح کئی گنا بڑھ جاتے ہیں، 700 مرتبہ (سورۃ 4:40؛ 6:160؛ البخاری حدیث نمبر 40، جلد نمبر 1اور بآسانی دستیاب ہیں (البخاری ، حدیث نمبر 112، 114، جلد نمبر 4؛ حدیث نمبر 335، 412 ، جلد نمبر 9، حدیث نمبر 507)۔ کلمہ شہادت پڑھنے کی صورت میں دس نیکیاں آپ کے کھاتے میں ڈال دی جاتی ہیں۔

ان تمام باتوں سے ہمیں یہ تاثر ملتا ہے، کہ نہ صرف گناہ بآسانی قابلِ معافی ہیں ، بلکہ جنت میں دخول بھی یقینی ہے ۔ بہرحال، اللہ کی جانب سے الہام کے زیر اثر یہ بتلاتا ہے کہ عمال صالح کی بدولت جنت میں داخل نہیں ہوا جاسکتا۔ (البخاری، حدیث نمبر 577، جلد نمبر 7؛ حدیث نمبر 474، جلد نمبر 8)ایسا ممکن ہے کہ اللہ تعالی آپ کو معاف نہ فرمائے! (سورۃ 4:116) آخری خلیفہ فرماتے ہیں: ” خدا کی قسم، اگر میں ایک پاؤں جنت میں ہوں میں تب بھی میں، اللہ کے مکر سے محفوظ نہیں!” ( خالد محمد خالد، رسول کے جانشن)

خلاصہ :

ہم نے دیکھا کہ دینِ اسلام  کو  گناہ کی سنگینی پر کوئی اعتراض نہیں، بلکہ گناہ بآسانی معاف ہو سکتے ہیں۔ جبکہ مسیحیت میں معافی نیک کے اعمال کے ذریعے سے ممکن نہیں، اور اس اصول پر کوئ سمجھوتہ نہیں کرتی ۔ ہمارے دلوں، دماغوں کو بدلنا ہی اولین ترجیح ہے۔ مسیحیت میں گناہوں کی معافی صرف اور صرف جناب ِ مسیح کے کفارہ بخش خون کے ذریعے سے ہی ممکن ہے ، جبکہ اسلام کفارہ کا منکر ہے ، سورۃ 4:112؛ اور سورۃ 17:15 ملاحظہ کیجیئے)

پاکیزگی سے متعلق کتاب مقدس کا خدا اور قرآن کا اللہ دو مختلف آراء رکھتے ہیں، اللہ نےمسلمانوں کو من مانی کرنے کی اجازت دی رکھی ہے اور چاہتا ہے کہ مسلمان گناہ کے مرتکب ہوں؛ جبکہ یہواہ ، دل، جان اور جسم کی تقدیس کا تقاضا کرتاہے (انجیل بمطابق متی رسول 5:28) ایسا ممکن نہیں کہ وہ گناہ کے سسب آلودہ نہ ہوں اور پھر خداوند مسیح کے کفارہ بخش خون کے بغیر بہشت میں داخل ہو سکیں۔ صرف جنابِ مسیح کی راستبازی ہی نجات بخشتی ہے اور بہشت میں داخل ہونیکا واحد راستہ ہے۔

]]>
https://zindagitv.online/tv-shows/%__tv_shows_id%/feed/ 0
ذمی https://zindagitv.online/tv-shows/%__tv_shows_id%/ https://zindagitv.online/tv-shows/%__tv_shows_id%/#respond Mon, 23 May 2022 12:14:35 +0000 http://ztv.altarik.net/?p=17353 Read more »]]> آپ یقنناً یہ سوچ رہے ہونگے کہ ذمی کس بلا کا نام ہے؟ مشرق و مغرب دونوں اطراف میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جنہیں ذمی سے متعلق اسلامی تعلیمات کی سوجھ بوجھ نہیں!

ذمی ایک عربی لفظ ہے جس کے معنی "جو حفاظت کے لائق ہیں” نکلتے ہیں۔ ذمہ،  د غیر مسلم اقلیتوں کے لئے قانونی تفصیلات کو بیان کرتا ہے  جس کا تعلق، انکی معاشی، معاشرتی آزادی سے ہے جو انہیں ایک اسلامی مملکت میں حاصل ہیں۔

اسلام دنیا کو دوگھروں میں تقسیم کرتا ہے، پہلا دارالسلام (اطاعت کا گھر) جس میں تمام اسلامی مملکتیں شامل ہیں۔ اور دالحرب (جنگ کا گھر) جسمیں وہ تمام ممالک شامل ہیں جہاں اللہ کی شریعت قائم نہیں ہوئی ہے۔

(w43.2, and 43.5, p.944, 946-7) In Reliance of the Traveller

میں دارالحرب کو دشمنوں کے علاقہ کیطور پر بیان کیا گیا ہے۔ باوجود جدیدیت میں لپٹی ہوئی نئی تفسیر ان دو گھروں کو مواقعاتی طور پر پیش کرتی ہے،( لیکن اگر ایک مسلمان آزادانہ طور پر اپنے دین پر عمل درآمد کرسکتا ہے تو وہ دارالسلام میں رہتا ہے ، چاہے وہ ایک غیر اسلامی مملکت ہو)بنیادی تشریح کا انحصار اس بات پر ہے کہ مملکت شریعت کا اطلاق کرتی ہے کہ نہیں۔

دارالھدنہ، (جنگ بندی کا گھر) ان ممالک یا علاقوں کی جانب اشارہ کرتا ہے جو جنگ بندی کے مھاہدہ کے پابند ہیں جو کہ غیرمسلم (بنیادی طور پر، یہودی اور مسیحی) خاص قیمت ادا کر کے حاصل کرتے ہیں۔ اور اگر حربی (دارالحرب کے رہنے والے) جزیہ دینے سے انکار کردیں، جنگ جاری و ساری رہتی ہے جب تک کہ وہ ذمی کی حیثیت قبول نہ کرلیں، مارے نہ جائیں، یا پھر اسلام قبول نہ کرلیں۔ روائیتی طور پر اسلام کی نظر میں الھدنہ ایک ایسی حیثیت ہے جس میں کسی کا استحصال کرنا جائز سمجھا جاتا ہے۔

جب کوئی مملکت دارالحرب سے داراسلام میں تبدیل ہوتی ہے تو غیر مسلم جو اطاعت قبول کرلیتے ہیں (تبدیلی دین سے انکار کردیتے ہیں ) ایک معاہدے کے تحت جسے "معاہدہ برائے تحفظ” کہاجاتا ہے ، ذمی کہلائے جاتے ہیں۔

محفوظ ہونے سے ایسا تاثر ملتا ہے کہ "اہل کتاب ” ہونیکی وجہ سے مسیحیوں اور یہودیوں سے مناسب سلوک رکھا جاتا ہوگا۔ تاہم "معاہدہ برائے تحفظ” ذمیوں پر سخت پابندیوں کا اطلاق کرتا ہے کہ وہ کس حد تک کیا کچھ کرسکتے ہیں، انکا پہناوا، گفتگو، آنا جانا، نوکری وغیرہ ۔ دراصل ذمی سے مراد ہے کہ مغلوب ذمی، فاتحین مسلمانوں کے قرض خواہ ہیں۔

الماوردی، گیارہویں صدی کہ ماہر شرع اور علم الہیات کے ماہر کہتے ہیں، کہ ذمیوں پر عائد کردہ جزیہ ان کے ایمان سے منکر ہونیکی وجہ سے ذلت کا ایک نشان ہے یا پھر مسلمان کے نرم رویہ کا ترجمان کہ جب وہ زمیوں کو امن سے رہنے کی اجازت دیتے ہیں (بجائے اس کے کہ وہ انہیں غلام بنائیں یا قتل کریں) تا کہ اس رویہ کے بدلے ان سے نرم رویہ برقرار رکھا جائے۔

سورۃ 9:29 ذمی کے لئے بنیاد فراہم کرتی ہے، ” ان سے جنگ کرو یہانتک کہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں ” جو اہل کتاب میں سے خدا پر ایمان نہیں لاتے اور نہ روز آخرت پر (یقین رکھتے ہیں) اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جو خدا اور اس کے رسول نے حرام کی ہیں اور نہ دین حق کو قبول کرتے ہیں، جب تک وہ اطاعت کو صدق دل سے قبول نہ کرلیں اور جزیہ نہ دیں اور اپنے آپ کو مفتوح نہ مان لیں۔

کچھ مسلمان اس پر یہ اعتراض کرسکتے ہیں کہ سیاق و سباق کی روشنی میں یہ لوگوں کی مخصوص جماعت کے لئے کہا گیا ہے۔ بہرحال روائیتی تفیسر یہ صاف ظاہر کرتی ہے کہ مسلمان مفکرین اور عمائدین اس کا اطلاق دوسری جماعتوں پر بھی کرتے ہیں، جیسے جادوگروں پر نہ کہ صرف مسیحیوں پر ہی ۔ البخاری ، حدیث نمبر 384، جلد نمبر 4؛ مالک ، کتاب نمبر 17، نمبر 24۔24۔17اور اس کے علاوہ مسلم ، کتاب نمبر 42، حدیث نمبر 7065؛ ابو داؤد ، کتاب نمبر 13، حدیث نمبر 2955) محمد کو اللہ کی جانب سے یہ حکم ملا تھا کہ تب تک لڑو جب تک وہ دین کو قبول نہ کرلیں یا ہلاک نہ ہوجائیں، یا زمی کی حیثیت سے اطاعت قبول نہ کرلیں۔ (سورۃ 9:29؛ مسلم  کتاب نمبر 19، حدیث نمبر 4294، البخاری جلد نمبر 4، حدیث نمبر 386، وغیرہ)

شرائط بہت آسان ہیں: انہیں ہر حال میں جزیہ ادا کرنا ہوگا، اور یہ سوچنا ہوگا کہ وہ مغلوب ہیں (جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے حقوق محدود ہیں) اپنی اہمیت کھو چکے ہیں، ابن کثیراضافہ کرتے ہیں، کہ انکی کوئی عزت نہیں ، ذلیل اور ناچیز ہیں ۔

جزیہ ، مذہب پر عمل درآمد کرنے، اپنی آزادی کو برقرار رکھنے اور کاروبار کرنے کے لئے ٹیکس ادا کرنا ہے۔ (ابوداؤد ، کتاب نمبر 19، حدیث نمبر 3000)۔ مسلمان اکثر یہ کہتے پائے جائنیگے کہ یہ ٹیکس بہت معمولی نوعیت کا ہے، لیکن محمد انکی کمائی کا  50٪ حصہ وصول کیا کرتا تھا۔ (بخاری ، جلد نمبر 3، حدیث نمبر 881وغیرہ؛ ابن اسحاق، (دی لائف آف محمد ، صحفہ نمبر 515؛ اسپین میں یہ کم از کم 20٪ تھا لیکن انتہائی شرح 80٪ تک پہنچ جاتی تھی ، (ڈوزی ، اسپینش اسلام ، صحفہ نمبر 234)۔

مھاہدہ عمر:

عمر کا مھاہدہ ( خلیفہ دوئم) اس لئے تشکیل دیا گیا کہ مسلمان ان علاقوں پر اپنا تسلط برقرار رکھ سکیں جنہیں انہوں نے حال ہی میں فتح کیا تھا اور جہاں کے شہریوں کی اکثریت ابھی تک غیر مسلم تھی۔ ذیل میں درج ذمی کے حوالے سے مھاہدہ عمر کے بارے میں ابن کثیر کا بیان مثال کیطور پر یوں آیا ہے:

ذمی:

خانقائیں، گرجا گھر یا پناہ گاہیں تعمیر نہیں کرسکتے؛

·        اپنے بچوں کو قرآن ںہیں سکھا سکتے، شرک کی تعلیم کھلے عام نہیں دے سکتے (اللہ کے منکر ہونے کی) کسی کو شرک کے لئے دعوت نہیں دے سکتے (مسیحیت کی دعوت، انجیل کی منادی کے ذریعے) اور ان میں سے جو اسلام قبول کرنا چاہے اسے منع نہیں کرسکتے، اگر وہ ان کی جماعت میں نشست میں براجمان ہونا چاہے اور پہلے سے براجمان ہو؛

·        وہ مسلمانوں کا احترام کریں اور ان جگہوں سے برخاست ہو جائیں جہاں وہ جمع ہوں اور جہاں وہ بیٹھنا یا متبادل نام جو اسلامی ہوں،    اسلامی نام  رکھنے کی ممانعت،

·        وہ ان جیسے کپڑے نہ پہنیں، ٹوپیاں ، پگڑھیاں، چپلیں ، بالوں کی طرز، کلام ،سواری بغیر زین کے ہو، تلواریں کندھے سے نہ لٹکائیں، کسی قسم کا ہتھیار نہ رکھیں؛

گرجاگھروں پر صلیب آویزاں نہ کریں اور نہ ہی بیرونِ کتب، عوامی جگہوں پہ، نہ ہی مسلمانوں کی جگہوں اور بازاروں میں ؛

·        ان کے سامنے کے بال کٹے ہونے چاہئیں، اپنے روائیتی کپڑوں میں ملبوس ہوں، جہاں کہیں بھی ہوں کمر کے گرد بیلٹ ہو۔

·        اگر ان میں سے کسی چیز پر عمل درآمد نہ ہوا ہو، تو مسلمانوں کو اجازت ہے کہ وہ ان سے ایسا سلوک کریں جو نافرمان اور باغیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے، یعنی ان سے لڑیں، قتل کریں یا پھر غلام بنالیں۔

اللہ نے محمد پر منکشف کیا (سورۃ 47:4) ‘ جب تم کافروں سے بھڑ جاؤ تو ان کی گردنیں اُڑا دو۔ یہاں تک کہ جب ان کو خوب قتل کرچکو تو (جو زندہ پکڑے جائیں ان کو) مضبوطی سے قید کرلو۔ پھر اس کے بعد یا تو احسان رکھ کر چھوڑ دینا چاہیئے یا کچھ مال لے کر یہاں تک کہ (فریق مقابل) لڑائی (کے) ہتھیار (ہاتھ سے) رکھ دے۔ (یہ حکم یاد رکھو) اور اگر خدا چاہتا تو (اور طرح) ان سے انتقام لے لیتا۔ لیکن اس نے چاہا کہ تمہاری آزمائش ایک (کو) دوسرے سے (لڑوا کر) کرے۔ اور جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کے عملوں کو ہرگز ضائع نہ کرے گا ۔

جاری و ساری ظلم کے پیش نظر، بہت سے لوگ مسلمان ہوگئے تا کہ وہ جزیہ ٹیکس اور سخت قواعد و ضوابط سے راہ فرار اختیار کرسکیں۔ سلسلہ زمی کا اطلاق نہ صرف محمد کی زندگی میں ہو ابلکہ یہ انیسویں صدی تک جاری رہا ہے۔ آخر کار 1855 میں مصر سے جزیہ کا خاتمہ ہوا۔

بابر (1483تا 1530) سلطنت مغلیہ کا بانی، جسے مسلمانوں کی برداشت کے حوالے سے ایک قابلِ تقلید نمونہ سمجھا جاتا ہے، اپنی سوانح حیات "بابرنامہ” میں جہادی مہم کے حواے سے  کفار قیدیوں کے متعلق  بیان کرتا ہے ، ”  جو قیدی بنا کر لائے گئے ، ان کے متعلق حکم دیا گیا کہ ان کے سر قلم کردئیے جائیں اور کھوپڑیوں کا مینار تعمیر کیا جائے”۔

The Baburnama-Memories of Babur, Prince and Emperor, translated and edited by Wheeler M.Thacktson, Oxford University Press, 1996, p.188.Emphasis add.

کیا زمی ازم بائبل میں موجود ہے؟

دراصل یہودی اور مسیحیوں کے کلام میں اسلام میں موجود اس تعلیم کے ہم منصب کچھ بھی نہیں۔ بلکہ اس کے برعکس ہمیں یہودیوں کے کلام میں ملتا ہے کہ یہودیوں کو تاکید کی گئی کہ ، ” سو تم پردیسیوں سے محبت رکھنا کیونکہ تم بھی ملک مصر میں پردیسی تھے۔ ” (استشناء 10:19) مسیحیوں سے توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ دوسروں کو اپنے سے بہتر سمجھیں، (فلپیوں کے نام خط 2:3)۔ وہ مسلمانوں کی طرح خود کو جنگ کرنے کے لئے مجبور نہیں سمجھتے، کیونکہ یسوع کی بادشاہت اس دنیا کی نہیں، (انجیل بمطابق یوحنا 18:36) مسیحی جناب مسیح کی تعلیمات کی پیرؤی کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے یہ فرمایا کہ اپنے دشمنوں سے محبت کرو اور ان سے مہربانی سے پیش آؤ جو تمہیں اذیت پہنچاتے ہیں (انجیل بمطابق متی 5:44)، ہوسکتا ہے کہ یہودی اور مسیحی ایسے طرز عمل کے مطابق زندگی نہ گزارتے ہوں، لیکن مسلمانوں کے برعکس ان کے پاس امتیازی رویہ کے لئے کوئی جواز موجود نہیں۔  دلچسپ بات یہ ہے کہ ابن جبیر صلیبی جنگوں میں فرینکس کے حوالے سے بتلاتا ہے کہ انہوں نے مغلوب مسلمانوں کو ذمیوں کا درجہ دیا لیکن زمیوں سے فرانسسیوں کا رویہ ان کے پہلے آقاؤں سے حد درجہ بہتر تھا۔

ہوسکتا ہے کہ آپ کو بتلایا گیا ہو کہ انجیل (اناجیل مقدسہ) محرف ہو چکیں ہیں، اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمارا ٹریکٹ بائبل کی صداقت کا مطالعہ کریں۔ اس کے علاوہ ہم چاہتے ہیں کہ آپ قرآن میں موجود جناب مسیح کے متعلق تعلیمات کا مطالعہ بھی کریں جو ہمارے ٹریکٹ بنام ” یسوع اور محمد کا تقابلی جائزہ” میں درج ہے۔

محمد نیک کاموں کے ذریعے سے نجات کے فقط امکانات پیش کرتا ہے ، جبکہ یسوع نے  آپ کو یقینی نجات بہم پہنچانے کے لئے جو کہ خدا کا تحفہ ہے ، موت تک گوارا کی۔ یہ ایسی چیز نہیں جسے آپ خود حاصل کرسکیں۔

جناب مسیح نے دعویٰ کیا کہ وہ ابنِ خدا ہیں اور اس کے علاوہ فرمایا ، ” راہ، حق اور زندگی میں ہوں، کوئی میرے وسیلے کے بغیر باپ کے پاس نہیں آتا۔ ” (یوحنا 14:6)

]]>
https://zindagitv.online/tv-shows/%__tv_shows_id%/feed/ 0
صراط مستقیم https://zindagitv.online/tv-shows/%__tv_shows_id%/ https://zindagitv.online/tv-shows/%__tv_shows_id%/#respond Mon, 23 May 2022 12:10:37 +0000 http://ztv.altarik.net/?p=17348 Read more »]]> صراط مستقیم

بعض اوقات اپنی مصروف زندگی میں یہ بات بھول جاتے ہیں ، کہ ہم زندگی کے اس سفر میں انتہائی معمولی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ ابدیت بھی کوئی چیز ہے اور ایک خدا جس کو ہم جوابدہ ہیں۔ روزِ عدالت میں فردوس میں جانے کے لئے آپ کس پر بھروسہ کرسکتے ہیں؟آپ کہاں ہونگے؟ جس سفر پر آپ گامزن ہیں، بآلاخر آپ کو جنت یا دوزخ کی جانب لیجائیگا۔ کیونکہ لکھا ہے ‘

” اور اگر آدمی ساری دنیا حاصل کرے اور اپنی جان کا نقصان اٹھائے تو اسے کیا فائدہ ہوگا؟یا آدمی اپنی جان کے بدلے کیا دیگا؟ (متی 16:26)

ہم سب گنہگار ہیں:

اسی لیئے اللہ تعالی نے محمد کو تنبیہ کی کہ وہ اپنے اور دوسروں کے گناہوں کے لئے معافی مانگے۔ سورۃ 47 اس کی 19 آیت

فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ  وَاللَّهُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَمَثْوَاكُمْ ترجمہ: پس جان رکھو کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگو اور (اور) مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لئے بھی۔ اور خدا تم لوگوں کے چلنے پھرنے اور ٹھیرنے سے واقف ہے ۔

ہم سب گنہگار ہیں:

اسی لیئے اللہ تعالی نے محمد کو تنبیہ کی کہ وہ اپنے اور دوسروں کے گناہوں کے لئے معافی مانگے۔ سورۃ 47 اس کی 19 آیت  میں یوں مرقوم ہے:

فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ  وَاللَّهُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَمَثْوَاكُمْ ترجمہ: پس جان رکھو کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگو اور (اور) مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لئے بھی۔ اور خدا تم لوگوں کے چلنے پھرنے اور ٹھیرنے سے واقف ہے ۔

صحیح البخاری جلد 8، 407اور صحیح البخاری 319 جلد نمبر 8 کا ضرور مطالعہ فرمائیں۔

محمد از خود یہ بات جانتا تھا کہ فرمانبرداری پر تکیہ کر کے جنت میں داخل ہونا ناممکن ہے۔ ہم قرآن میں پڑھتے ہیں (سورۃ 46 اس کی 9آیت )

قُلْ مَا كُنتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ  إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ وَمَا أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُّبِينٌ

کہہ دو کہ میں کوئی نیا پیغمبر نہیں آیا۔ اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا (کیا جائے گا) میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر وحی آتی ہے اور میرا کام تو علانیہ ہدایت کرنا ہے ۔

 اور صحیح البخاری حدیث نمبر 266 جلد نمبر 5 میں  بھی ہے۔

محمد آپ کو نہیں بچانے پر قادر نہیں:

قرآن میں لفظ ، نجات دہندہ کہیں بھی وارد نہیں ہوا۔ اگر کسی ڈوبتے کو بچانا مقصود ہو تو بچانے والے کو تیرنا آنا چاہئے، صرف ہاتھ پیر چلانا نہیں بلکہ اچھی طرح سے تیرنا آنا چاہئے کیونکہ یہ دونوں کے لئے ضروری ہے ۔ اوپر بیان کئے گئے حوالہ جات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ محمد تیرنے کے قابل نہیں تھا اس لئے وہ آپ کو بھی نہیں بچا سکتا۔

جب ہم سورۃ 26 اس کی آیت نمبر 214 کا مطالعہ کرتے ہیں جہاں یہ لکھا ہے کہ ”   ” کو خبردار کرو، تو ہم پر یہ عیاں ہو جاتا ہے کہ محمد سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو خبردار کرے۔ آئیے اس آیت کو سمجھنے کے لئے صحیح مسلم کی حدیث 398 اور 402 ، جلد نمبر 1 کا مطالعہ کریں

(کتاب انوار الجندی –میزان السلام کا صحفہ 170 پڑھنے کے قابل ہے۔)

محمد لوگوں کو کہتا ہے کہ جہنم کی آگ سےبچنے کے لئے انہیں خود ہی کوئی اہتمام کرنا ہوگا۔ اور ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ محمد خود کو بچانے کا اہل نہیں تھا ، کیونکہ وہ خود بھی ںہیں جانتا کہ اللہ اس کے ساتھ کیا سلوک روا رکھے گا۔

کون بیگناہ ہے، کون بچا سکتا ہے؟

قرآن کے مطابق یسوع بیگناہ تھا:انہوں نے کہا کہ میں تو تمہارے پروردگار کا بھیجا ہوا (یعنی فرشتہ) ہوں (اور اس لئے آیا ہوں)کہ تمہیں پاکیزہ لڑکا بخشوں۔ (سورۃ 19:19) عیسی مسیح اور ان کی والدہ شیطان کے لمس سے محفوظ رہے۔ (3:36)

   اور بائبل مقدس میں لکھا ہے کہ ” کیونکہ ہمارا ایسا سردار کاہن نہیں جو ہماری کمزوریوں میں ہمارا ہمدرد نہ ہو سکے بلکہ وہ سب باتوں میں ہماری طرح آزمایا گیا تو بھی بیگناہ رہا۔ ” (عبرانیوں 4:15-16)

 اسی لئے جنابِ یسوع مسیح خاصکر انہیں جو ان کے ذریعے سے خدا تعالی تک رسائی حاصل کرتے ہیں بچانے پر قادر ہیں ، کیونکہ بمطابق عبرانیوں کے نام خط 7:25 آیت میں یوں لکھا ہے ، ” اس لئے جو اس کے وسیلہ سے خدا کے پاس آتے ہیں وہ انہیں پوری پوری نجات دے سکتا ہے کیونکہ وہ انکی نجات کے لئے ہمیشہ زندہ ہے ۔ "

خود قرآن کی گواہی یہ ہے کہ یسوع ، کلمتہ اللہ اور خدا کی روح ہیں، (دیکھئے سورۃ 3:45؛ 4:171؛ 19:34؛ 21:91) وہ اعلی مرتبہ پر فائز ہیں۔ خدا تعالی نے اپنے کلمہ کے ذریعے سے ہی سب کچھ تخلیق کیا۔ (دیکھئے، سورۃ 2:117؛ 3:47 اور 3:49؛ 6:73؛ 16:40؛ 19:35؛ 36:82؛ 40:68) خود بائبل مقدس بھی اس بات کی تائید کرتی ہے (دیکھئے زبور 33:6) اسی لئے، کلمہ نہ صرف تخلیق کے عمل میں کارفرما ہے بلکہ ازلی بھی ہے۔ علاوہ ازیں کلمتہ اللہ کے متعلق بائبل مقدس کا فرمان ہے ، ” ابتدا میں کلام تھا، کلام خدا کے ساتھ تھا ، کلام خدا تھا، (انجیل بمطابق یوحنا رسول 1:1)

اس سے پہلے کہ آپ یہ کہیں کہ بائبل مقدس بدل سکتی ہے آپ ذرا سوچئیے: کیا ایک خاکی و فانی انسانی قادر مطلق کے کلام کو بدل سکتا ہے؟ اس سے پہلے کہ آپ یہ کہیں کہ مسیحی تین خداؤں کو مانتے ہیں؛ آپ کو چاہئے کہ آپ یہ سوال پوچھیں، کہ کیا مسیحی واقعی تین خداؤں کو مانتے ہیں ؟ کیا آپ نے کبھی بائبل مقدس کا مطالعہ فرمایا ہے؟ جب تک قصور ثابت نہ ہوجائے، ہر مشتبہ شخص معصوم ہے!

بائبل مقدس میں نجات:

لیکن خدا اپنی محبت کی خوبی ہم پر یوں ظاہر کرتا ہے کہ جب ہم گنہگار ہی تھے تو مسیح ہماری خاطر موا۔ (رومیوں کے نام پولوس رسول کا خط 5:8)

اگر تو اپنی زبان سے یسوع کے خدانوند ہونے کا اقرار کرے اور اپنے دل سے ایمان لائے کہ خدا نے اسے مردوں سے جِلایا تو نجات پائیگا۔ (رومیوں کے نام پولوس رسول کا خط 10:9)

لیکن جتنوں نے اسے قبول کیا اس نے انہیں خدا کے فرزند ہونے کا حق بخشا، یعنی انہیں جو اس کے نام پر ایمان لاتے ہیں۔ (انجیل بمطابق یوحنا رسول 1:12)

یسوع نے کہا ، ” راہ اور حق اور زندگی میں ہوں۔ کوئی میرے وسیلہ کے بغیر باپ کے پا س نہیں آتا ” ( انجیل بمطابق یوحنا رسول 14:6)

گو کہ ہم گناہ کی پستیوں میں ڈوبے ہوئے ہیں ، پاک خدا کے حضور قصور وار ہیں خدا تعالی ہم سے بہت زیادہ محبت کرتاہے، بلکہ مسیح کلمتہ اللہ، ہماری طرح انسان کی صورت میں بھیج کر اور کرکے جب ہم خدا کے مخالف تھے اور فقط گنہگار ہی تھے، ہماری جگہ مصلوب ہو کر ہمارے گناہوں کا کفارہ ادا کرکے، محبت کی انتہا کردی۔ اس نے یہ ہمارے لئے کیا ۔ اس نے اپنی مرضی صلیب پر جان دیکر ہمارا فدیہ ادا کیا، ” کیونکہ گناہ کی مزدوری موت ہے ، مگر خدا کی بخشش ہمارے یسوع مسیح میں ہمیشہ کی زندگی ہے” ۔ (پولوس رسول کا خط رومیوں کے نام  6:23)

ہمارے گناہوں کی سزا موت ہے، لیکن یسوع، ازلی کلمتہ اللہ ، بیگناہ ہوئے ہوئے اس دنیا میں اس لئے آیا کہ ہمارے گناہوں کا ازالہ ہو سکے۔ اگر جناب ِ مسیح صرف بیگناہ اور ایک رسول ہی ہوتے تو زیادہ سے زیادہ صرف ایک انسان کے لئے ہی جان دیتے۔ لیکن ازلی کلمتہ اللہ ہونے کی حیثیت سے ان کی قربانی تمام بنی نوع انسان کے گناہوں کی قیمت ادا کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ وہ تحفہ کے طور پر ہمیں ہمیشہ کی زندگی عطا کرتے ہیں تا کہ ہم ہمیشہ تک ان کی رفاقت سے فیض اٹھا سکیں۔

یسوع نے صلیب پر ہمارے گناہوں کے عوض جان دی اور تیسرے دن مردوں میں سے زندہ ہو کر موت پر ایک تاریخی فتح حاصل کی، لیکن ہم میں سے ہر ایک کو یہ مفت بخشش حاصل کرنے کے لئے فیصلہ خود کرنا ہے۔ اگر آپ اس بخشش کو وصول کرنے سے انکار کرتے ہیں تو آپ اس بخشش سے فیضیاب ہونے کے اہل نہیں رہتے ۔ تحفہ دیا جاتا ہے ، اسے کمایا نہیں جاسکتا۔ اوربخشنے والے کو یہ حق حاصل ہے کہ اگر آپ کسی طرح سے ان کے تحفے کی قیمیت ادا کرنا چاہیں تو وہ اپنی ناراضگی کا برملا  اظہار کر سکے۔ خدا آپ کا قرض خواہ نہیں ہوسکتا! خدا صرف یہ چاہتا ہےکہ آپ ازراہ عقیدت یہ تحفہ صدقِ دل سے قبول کرلیں۔

 اپنے منہ سے یہ اقرار کرنا کہ یسوع مسیح خداوند ہے سھے مراد ہے کہ :

1۔ آپ گہنگار ہیں اور موت کے سزاوار ہیں

2۔ آپ جہنم کی آگ سے از خود بچ نہیں سکتے

3۔ خداوند یسوع مسیح نے صلیب پر جان دیکر اپنے قیمتی خون کے ذریعے سے آپ کے گناہوں کا کفارہ ادا کیا۔

4۔ آپ کے لئے ضروری ہے کہ آپ یسوع مسیح کو اپنا نجات دہندہ اور خداوند قبول کریں۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ خداوند یسوع مسیح پر ایمان کے ذریعے سے اپنے گناہوں کی معافی حاصل کریں تو آپ کو صرف اپنا دل ان کے لئے کھولنا ہوگا، اور خدا سے سادہ لفظوں میں یہ کہنا ہوگا، جیسے کہ :

اے خداوند یسوع! میں جانتا ہوں کہ میں گنہگار ہوں، اور مانتا ہوں کہ میرے نیک اعمال میرے گناہوں کو دھو نہیں سکتے اور میں آپ کو اپنا خداوند اور نجات دہندہ قبول کرتا/کرتی ہوں۔ آپ اپنے پاک خون کے ذریعے سے میرے گناہوں کو دھو دیجیئے اور اس قابل بنائے کہ آپ کی بتلائی ہوئی راہوں پر چل سکوں۔ میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے وہ راستہ فراہم کیا کہ میں آپ کے قریب آسکوں۔ آمین

]]>
https://zindagitv.online/tv-shows/%__tv_shows_id%/feed/ 0
اسلام میں یہود اور نصاریٰ https://zindagitv.online/tv-shows/%__tv_shows_id%/ https://zindagitv.online/tv-shows/%__tv_shows_id%/#respond Mon, 23 May 2022 12:08:40 +0000 http://ztv.altarik.net/?p=17343 Read more »]]> اسلام میں یہود اور نصاریٰ

لوگ جہاں کہیں بھی ہوں انہیں لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمیں دوستوں کی ضرورت ہے۔ ہمارے تعلقات ہی بہتر طور پر یہ ثابت کرتے ہیں کہ ہماری شخصیت کیسی ہے۔ ہمارے باہمی تعلقات جو ہم لوگوں سے رکھتے ہیں ان میں چاہے وہ ہوں جو ہم کسی قسم کی مطابقت رکھتے ہیں، یا پھر وہ جو اختلاف روا رکھتے ہیں، ہمارے ان خیالات کا اظہار کرتے ہیں جو ہمارے دلوں میں پناہ گزین ہیں۔ یہ اس بات کا عکس ہیں کہ ہم کون ہیں اور ہم کیا ایمان رکھتے ہیں ۔ اس حوالے سے اسلامی فکر مسیحیت کے بالکل برعکس ہے!

جناب مسیح نے فرمایا، ” کیونکہ اگر تم اپنے محبت رکھنے والوں ہی سے محبت رکھو تو تمہارے لئے کیا اجر ہے؟، کیا محصول لینے والے بھی ایسا  نہیں کرتے؟ اور اگر تم فقط اپنے بھائیوں ہی کو سلام کرو تو کیا زیادہ کرتے ہو؟َکیا غیر قوموں کے لوگ بھی ایسا نہیں کرتے؟ ” (متی 5 باب 46 تا 47 آیات)

اسلام اور کثیر الثقافتی معاشرہ کے کارندے، اسلام کو ایک ایسے مذہب کے طور پر پیش کرتے ہیں جو امن ور برداشت کا وہ نمونہ ہے جس کے پاس دنیا کے تمام مسائل کا حل ہے ۔ بہرحال، یہاں جتنا کچھ بھی اس حوالے سے اسلام کے بارے میں پیش کیا گیا ہے وہ ایک قرآن و حدیث اور سنت محمدی اور تعلیمات کی ایک محدود اور مسخ شدہ تصور و تصویر ہے۔

تعلیماتِ محمدی کا ایک مختصر تعارف

مسیحی اور یہودی ایماندار ہیں

سورۃ 85 اس کی 4 تا 11 آیات شاہِ یوسف ذو نواس کے نجران کے مسیحیوں کے قتلِ عام کیجانب تاریخی حوالہ ہے اور سورۃ 18 اس کی 10 تا 27 آیات میں مسیحیوں کو اہل ایمان کہا گیا ہے ؛ سورۃ 2:62 اور سورۃ 5:69 میں اللہ یہودیوں،مسیحیوں اور سائیبین (اجرام فلکی کی پرستش کرنیوالے) سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ قیامت دن کے ان کو کچھ خوف نہ ہوگا۔ سورۃ 2:122 اور 5:20 میں اللہ فرماتا ہے اہل اسرائیل تمام قوموں، پیغمبروں اور بادشاہوں سے افضل ہیں۔

مسیحی اور یہودی کفار میں سے ہیں

سورۃ 5:72 اور 73 میں یوں آیا ہے:

وہ لوگ بےشبہ کافر ہیں جو کہتے ہیں کہ مریم کے بیٹے (عیسیٰ) مسیح خدا ہیں حالانکہ مسیح یہود سے یہ کہا کرتے تھے کہ اے بنی اسرائیل خدا ہی کی عبادت کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی (اور جان رکھو کہ) جو شخص خدا کے ساتھ شرک کرے گا خدا اس پر بہشت حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں (سورۃ 5:72)

وہ لوگ (بھی) کافر ہیں جو اس بات کے قائل ہیں کہ خدا تین میں کا تیسرا ہے حالانکہ اس معبود یکتا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اگر یہ لوگ ایسے اقوال (وعقائد) سے باز نہیں آئیں گے تو ان میں جو کافر ہوئے ہیں وہ تکلیف دینے والا عذاب پائیں گے (سورۃ 5:73)

سورۃ 4:116 میں اللہ فرماتا ہے کہ مسیحیوں کے لئے معافی کا کوئی امکان نہیں کیونکہ وہ شرک کرتے ہیں ( ایک سے زیادہ خداؤں کو مانتے ہیں ) ” خدا اس کے گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا (اور گناہ) جس کو چاہیے گا بخش دے گا۔ اور جس نے خدا کے ساتھ شریک بنایا وہ رستے سے دور جا پڑا۔

حصول علم کے لئے یہودیوں اور مسیحیوں سے رجوع کرو!

          ” اگر تم کو اس (کتاب کے) بارے میں جو ہم نے تم پر نازل کی ہے کچھ شک ہو تو جو لوگ تم سے پہلے کی (اُتری ہوئی) کتابیں پڑھتے ہیں ان سے پوچھ لو۔ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس حق آچکا ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا” (سورۃ 10:94)

          ” اور اہل انجیل کو چاہیئے کہ جو احکام خدا نے اس میں نازل فرمائے ہیں اس کے مطابق حکم دیا کریں اور جو خدا کے نازل کئے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دے گا تو ایسے لوگ نافرماں ہیں” (سورۃ 5:47)

مسیحی اور یہودی فریب زدہ بیدم بندر:

سورۃ 9:30، ” ور یہود کہتے ہیں کہ عُزیر خدا کے بیٹے ہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح خدا کے بیٹے ہیں۔ یہ ان کے منہ کی باتیں ہیں پہلے کافر بھی اسی طرح کی باتیں کہا کرتے تھے یہ بھی انہیں کی ریس کرنے میں لگے ہیں۔ خدا ان کو ہلاک کرے۔ یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں”

سورۃ 98:6، ” جو لوگ کافر ہیں (یعنی) اہل کتاب اور مشرک وہ دوزخ کی آگ میں پڑیں گے (اور) ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ یہ لوگ سب مخلوق سے بدتر ہیں” مزید دیکھئے (سورۃ 8:55)

مسیحیوں اور یہودیوں سےحسن سلوک روا رکھو:

سورۃ29:46، ” اور اہلِ کتاب سے جھگڑا نہ کرو مگر ایسے طریق سے کہ نہایت اچھا ہو۔ ہاں جو اُن میں سے بےانصافی کریں (اُن کے ساتھ اسی طرح مجادلہ کرو) اور کہہ دو کہ جو (کتاب) ہم پر اُتری اور جو (کتابیں) تم پر اُتریں ہم سب پر ایمان رکھتے ہیں اور ہمارا اور تمہارا معبود ایک ہی ہے اور ہم اُسی کے فرمانبردار ہیں” مزید دیکھئے (سورۃ 16:125)

قتل، اور  لوٹ مار،   یہودیوں سے لڑنا:

سورۃ 3:181، ” خدا نے ان لوگوں کا قول سن لیا ہے جو کہتے ہیں کہ خدا فقیر ہے۔ اور ہم امیر ہیں۔ یہ جو کہتے ہیں ہم اس کو لکھ لیں گے۔ اور پیغمبروں کو جو یہ ناحق قتل کرتے رہے ہیں اس کو بھی (قلمبند کر رکھیں گے) اور (قیامت کے روز) کہیں گے کہ عذاب (آتش) سوزاں کے مزے چکھتے رہو”

البخاری، حدیث نمبر 176، جلد نمبر 4، ” رسول اللہ نے فرمایا، ” تم (مسلمانوں) یہودیوں سے تب تک لڑو گے جب ان میں سے کچھ چٹانوں کے پیچھے نہ جا چھپیں ۔ اور پتھر (انہیں دھوکہ دینگے) کہینگے، ‘اے عبداللہ (اللہ کے غلام)! میرے پیچھے ایک یہودی چھپا ہوا ہے، اسے قتل کردو”

یہودیوں اور مسیحیوں کو لوٹنا، قتل کرنا، سورۃ 9:120 اور 4:94 میں جائز قرار دیا گیا ہے۔ اللہ ، محمد کے ابتدائی ایام میں محمد کو یہ سکھاتا ہے کہ یہودی اور مسیحی اہل ایمان ہیں، لیکن آخری ایام میں یہ سکھلاتا ہے کہ کافر ہیں اور نہ ہی توبہ کی طرف مائل ہونگے اور نہ ہی اللہ کی طرف پھرینگے، چاہے محمد انکے لئے 70 مرتبہ نماز کیوں نہ پڑھے! (سورۃ 9:80)

اللہ اور محمد غیر مستقل مزاج؟

یہودیوں اور مسیحیوں کے لئے یہ ‘نرم خو’ ہدایات تب دی گئیں جب محمد کے ماننے والوں کی تعداد قلیل تھی اور وہ مالی طور  پسماندگی کا شکار تھے۔ لیکن جب اس کی افواج طاقتور ہوگئیں اور مالی طور پر مستحکم ہوگئیں، تو اللہ نے حکم فرمایا، کہ کوئی اور مذہب قابل ِ قبول نہیں (پس، یہودئیت اور مسیحیت لعنت زدہ قرار پائے) اور وہ بہت زیادہ شدت پسند واقع ہوا!

اسلام کے عالاوہ اللہ کو کوئی اور مذہب قبول نہیں:

سورۃ 3:85، ‘اور جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب ہوگا وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور ایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا’ ( مزید دیکھئے سورۃ 3:83)۔

مسلمانوں ، کافروں کو دوست نہ بناؤ:

سورۃ 3:28، ‘مؤمنوں کو چاہئے کہ مؤمنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بنائیں اور جو ایسا کرے گا اس سے خدا کا کچھ (عہد ) نہیں ہاں اگر اس طریق سے تم ان (کے شر) سے بچاؤ کی صورت پیدا کرو (تو مضائقہ نہیں) اور خدا تم کو اپنے (غضب) سے ڈراتا ہے اور خدا ہی کی طرف (تم کو) لوٹ کر جانا ہے’۔ (مزید دیکھئے ، سورۃ 4 اس کی 144 تا 145 آیات)

سورۃ 5:51، ‘اے ایمان والو! یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جو شخص تم میں سے ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا بیشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا’۔

اللہ مسلمانوں کو کافر پڑوسیوں سے لڑنے کی اجازت دیتا ہے:

سورۃ 9:123، ‘ اے اہلِ ایمان! اپنے نزدیک کے (رہنے والے) کافروں سے جنگ کرو اور چاہیئے کہ وہ تم میں سختی (یعنی محنت وقوت جنگ) معلوم کریں۔ اور جان رکھو کہ خدا پرہیز گاروں کے ساتھ ہے’۔

سورۃ 9:5، ‘ جب عزت کے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کر دو اور پکڑلو اور گھیرلو اور ہر گھات کی جگہ ان کی تاک میں بیٹھے رہو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے لگیں تو ان کی راہ چھوڑ دو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔ ‘

مسلمانوں پر غیر مسلموں کی اطاعت لازم نہیں :

سورۃ 25:52، ‘تو تم کافروں کا کہا نہ مانو اور ان سے اس قرآن کے حکم کے مطابق بڑے شدومد سے لڑو’۔ سورۃ 26:151، ‘ اور حد سے تجاوز کرنے والوں کی بات نہ مانو’، سورۃ 33 اس کی 1 تا 2 آیات، ‘اے پیغمبر خدا سے ڈرتے رہنا اور کافروں اور منافقوں کا کہا نہ ماننا۔ بےشک خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے ، اور جو (کتاب) تم کو تمہارے پروردگار کی طرف سے وحی کی جاتی ہے اُسی کی پیروی کئے جانا۔ بےشک خدا تمہارے سب عملوں سے خبردار ہے ‘ ۔ سورۃ 68:8، ‘ تو تم جھٹلانے والوں کا کہا نہ ماننا’۔

کیا جنابِ مسیح کی تعلیم ایسی نفرت انگیز تھی؟

قطعی نہیں!حتی کہ جب وہ صلیب پر قربان ہو رہے تھے انہوں نے اپنے دشمنوں کے لئے دعا کی کہ ‘ اے باپ! انہیں معاف کر۔ ” لوقا 23:24) اور جناب مسیح اپنے شاگردوں کو سکھلاتے ہیں ، ” میں تم سےکہتا ہوں ! کہ اپنے دشمنوں سے محبت رکھا ، اپنے تکلیف دینے والوں کے دعا مانگو ” ۔ (متی 5:44) مسیحیوں کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ان پر لعنت کرنے والوں کے لئے برکت، برکت چاہیں، نہ کہ لعنت چاہیں، (رومیوں 12:14) اور حکومت کی اطاعت کریں (رومیوں 13اس کی 1 تا 8 آیات)

تشدد ہماری گنہگار انسانیت کی پیداوار ہے، جو انسانی سوچ پر مبنی ہے کہ کوئی مقابلتاً کسی دوسرے سے قدرے بہتر ہے۔ تاہم یہواہ، بائبل کے خدا، نے مرد اور عورت کو اپنی مانند اپنی شبیہ پر بنایا (پیدائش 1:27) ، اور مسیح میں، جو مسیح کو خداوند اور نجات دہندہ کے طور پر قبول کرتے ہیں، قطع نسل کسی نسل کے ،  ان کے خاندان میں شامل کر لیئے گئے ہیں (یوحنا 1:12) ۔ ‘ نہ کوئی غلام ، نہ آزاد، نہ کوئی مرد نہ عورت، کیونکہ تم سب مسیح میں ایک ہو۔ ” ( گلتیوں 3:28) خدا طرفداری کو سخت ناسپند کرتا ہے ( 1-تیمتھیس 5:21؛ جیمس 2 باب اس کی 1 تا 10 آیات؛ 3:17) اور امن کا شہزادہ، مسیح خداوند یہ تعلیم دیتے ہیں، ” اپنے دشمنوں سے محبت رکھو” ( متی 5 باب اس کی 43 تا 44 آیات)، "سب کے ساتھ میل ملاپ رکھو” (عبرانیوں 12:14) ، ” حکومتوں کے ماتحت رہو” (رومیوں 13 باب 1 تا 4 آیات)، ” سب کے ساتھ بہتری سے پیش آؤ ۔ ” (گلتیوں 6:10)

اب آپ کے ایک اچھا موقع ہے کہ آپ اپنے لئے مزید دریافت کرسکیں۔ کیونکہ خدا تعالی نے اس کام کے لئے آپ کو بہترین مواقع اور صلاحتیں فراہم کی ہیں۔ 

]]>
https://zindagitv.online/tv-shows/%__tv_shows_id%/feed/ 0
خواتین اور اسلام https://zindagitv.online/tv-shows/%__tv_shows_id%/ https://zindagitv.online/tv-shows/%__tv_shows_id%/#respond Mon, 23 May 2022 12:06:27 +0000 http://ztv.altarik.net/?p=17338 Read more »]]> خواتین اور اسلام

انتباہ:

اسلامی کتب میں قرآن اور احادیث ہی حرف ِ آخر ہیں ۔ مسلمان یہ ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن اللہ کا الہی مکاشفہ ہے، (مختلف ترجموں میں آئیتوں میں خفیف سا اختلاف پایا جاتاہے)۔ ہر سورۃ پورے باب کا پیشہ خیمہ ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق محمد مرد کامل کے طور پر ایک نمونہ ہیں جس کی تقلید ہر مسلمان پر فرض ہے۔ جو کچھ انہوں نے کہا اور عمل میں لائے وہ حدیث کہلاتی ہے۔ احادیث چھ طرح کی ہیں۔ احادیث : بخاری ، مسلم، ابو داؤد ، ترمزی، سنن ابنِ ماجہ، اور سنن نسائی۔ اس کتابچہ کا مقصد یہ ہے کہ آپ کو محمد کی تعلیمات اور انکے کاموں سے روشناس کروایا جائے، نہ کہ ان کے جذبات کو برانگیختہ کیا جائے؛ مسلمانوں کو کسی حد اپنے خدا  کے بارے میں آگاہی ہو کہ اس موضوع کے حوالے سے اللہ اور محمد نے کیا کہا ہے۔

مسیحٰی ایمان کے مطابق، شوہر کو بطور فرض یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ ” اپنی بیوی کو ایسے ہی پیار کرے جیسے مسیح خداوند نے کلیسیاء سے کیا اور اپنی جان اس کے لئے دی” (افسیوں 5:25)

لیکن جب لوگ بائبل مقدس سے منہ موڑ لیتے ہیں تو خواتین کیساتھ طلم و استبداد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ کچھ حضرات نے تو خواتین سے ناروا سلوک کے لئے بائبل مقدس کو دلیل بنانے کا دعوی بھی کیا ہے۔ لیکن بائبل مقدس میں موجود چھوٹے سے چھوٹا شوشہ بھی اس طرح کی تعلیم کی پزیرائی نہیں کرتا!

قطع نظر، نسل ، مذہب، جنس، مغربی تہذیب میں مساوات کی بنیاد ان سطور پر قائم ہے:

1۔ یہواہ جو بائبل کا خدا ہے ، اس نے مرد اور عورت  کو اپنی صورت پر اپنی شبیہ پر تخلیق کیا ہے۔ (پیدائش 1:27)

2۔ مسیح خداوند میں، جو اسے اپنا خداوند اور نجات دہندہ قبول کرتے ہیں وہ اس کے خاندان کا حصہ بن جاتے ہیں ۔ ( انجیل بمطابق یوحنا 1:12)

3۔ خدا تعالیٰ جانب داری یا منافقت کو پسند نہیں کرتا (1۔ تیمتھیس 5:21)؛( یعقوب کا خط 3:17  )

اسلام کیمطابق اللہ تعالیٰ نے تمام بنی نوع انسان کو بطور غلام تخلیق کیا (سورۃ 19:93) اور اسی بنا پر کوئی بھی یا کسی بھی طرح سے خدا تعالی کے حلقہ فرزنئیت میں نہیں آسکتا۔ نتیجتاً اسلامی شریعہ کی نظر میں لوگ مساوی حقوق نہیں رکھتے جس کی بنیاد قرآن اور احادیث کی تعلیمات ہیں۔

اسلامی شریعۃ کیمطابق خواتین کمترین ہیں۔ عدالت میں عورت کی گواہی مرد کے مقابلے میں آدھی تصور کی جاتی ہے (سورۃ 2:282؛ البخاری :حدیث نمبر 826، جلد نمبر 3) خواتین عقل کے لحاظ سے کوتاہ اور مذہبی معامعلات میں بھی کمترین ہیں (البخاری:حدیث نمبر 301؛ جلد نمبر 1؛ حدیث نمبر 826، جلد نمبر 3؛ حدیث نمبر 541، جلد نمبر 2)؛ عورتوں کے متعلق حوالہ جات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی حیثیت مال و متاع جیسے سونا، چاندی ، گھوڑے اور مال مویشی سے زیادہ کچھ نہیں (سورۃ 2:223)؛ ایک عورت کو اس کا شوہر اپنی نفسانی خواہشات کے لئے ایک کھیت کی طرح استعمال کرسکتا ہے (سورۃ 2:223) ایک مرد اپنی بیوی کے بدلے میں دوسری بیویاں لاسکتا ہے (سورۃ 4:20) ؛ اور احادیث کیمطابق شیطان عورت کے روپ میں ظاہر ہوسکتا ہے (صحیح مسلم : حدیث نمبر 3240، جلد نمبر 2)

عورتوں کے متعلق اسلام کی تعلیمات حسب ذیل ہے:

۔ دوزخ میں سب سے زیادہ تعداد عورتوں کی ہوگی (البخاری جلد نمبر 1: حدیث نمبر 301؛ مسلم جلد نمبر 4: حدیث نمبر 6600)

۔ سب سے بہترین خواتین وہ ہیں جنہیں کوئی دیکھ نہ پائے اور نہ ہی وہ کسی مرد کو دیکھ پائیں ( امام غزالی نے اس کا حدیث کو الحیا العلومِ دین، جلد نمبر 2 ، کتاب آداب النکاح ، بیروت: دارالکتوب المہیا ، صحفہ نمبر 53 میں  ذکر کیا ہے)

۔ ایک آدمی چار خواتین کو زوجیت میں لا سکتا ہے (سورۃ 4:3 اور 129)

۔ آدمی ایک کم سن بیوی سے بیاہ رچا سکتا ہے (سورۃ 65:4 ‘ قرآن کریم ‘) ؛ مرد حضرات عارضی طور پر ایک عورت کو بیوی بنا سکتے ہیں (متاع) (سورۃ 4:24؛ البخاری جلد نمبر 7: حدیث نمبر 13 الف ، 52؛ صحیح مسلم جلد نمبر 2: حدیث نمبر 3247، البخاری ، جلد نمبر 6: حدیث نمبر 139)

۔ مردوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنی بیویوں کی پٹائی کریں (سورۃ 4:34)

۔ مرد کثیر التعداد حرمیں رکھ سکتے ہیں (سورۃ 70 اسکی 29 تا 30 آیات)

۔ مرد عورتوں سے افضل ہیں (سورۃ 4:34)

بیان کردہ تعلیمات مسلمان مردوں کے لئے عورتوں پر ظلم کرنے کے لئے کھلی چھٹی کا اجازت نامہ ہے۔ کچھ مسیحی مرد حضرات بھی اپنی زوجاؤں سے برا سلوک کرتے ہیں لیکن ان کے پاس اس حوالے سے کتاب مقدس کی کوئی سند موجود نہیں۔

آبرو ریزی اور زناکاری:

سنہء 1979 میں حکومتِ پاکستان نے حدود آرڈینس کا اجراء کیا جو کہ شرعی قانون ہے۔ ان قوانین نے آبرو ریزی اور زنا کے درمیان تفریق کا قریباً دھندلا دیا ہے۔

زنا تبھی قرار پاتا ہے جب متعلقہ شخص یہ اقرار کر لے کہ اس نے کسی کے ساتھ جنسی اختلاط کیا ہے جو کہ غیر منکوحہ تھا۔ اس قانون کے مطابق   غیر مسلم ،مسلمانوں کے خلاف گواہی نہیں دے سکتے۔ گواہ کےلئے ضروری ہے کہ وہ بالغ مرد اور مسلمان ہو کیونکہ عورت کی گواہی آدھی تصور کی جاتی ہے (سورۃ 24:4) نتیجتاً اگر عورت اپنے حق میں گواہ مہیا نہ کرسکے تو وہ زنا کی مرتکب گردانی جاتی ہے ۔ پاکستان انسانی حقوق کمیشن کے ایک اندازہ کیمطابق ہر 8 منٹ کے بعد پاکستان میں زنابالجبر ہوتا ہے اور ہر سال عزت کے نام پر 1500 خواتین کو قتل کردیا جاتا ہے۔ سابقہ آسٹریلوی مفتی ، شیخ الحلالی کے مطابق ” اگر کوئی عورت اپنے آپ کو مکمل طور پر ڈھانپنے میں کسی کوتاہی کی مرتکب ہو وہ زنا کے لائق ہے یا اس کے ساتھ زنا جائز ہے ”  ۔

شامی خبررساں ایجنسی (مورخہ 27 دسمبر ، سنہ 2005) میں خبر شائع کرتی ہے کہ لبنانی شیخ فیض محمد نے کہا کہ  ” عورت کسی پر الزام نہیں لگا سکتی سوائے خود کے ” اسی طرح ڈنمارک کے مفتی اور ایک اسلامی پینل جس کی سربراہی مصری اسکالر شیخ یوسف القردوای کرتے ہیں، فرماتے ہیں کہ ” ان خواتین کو جن کی آبروریزی اس وجہ سے کی گئی ہو کہ انہوں نے غیرمہذب لباس زیب تن کئے ہوئے تھے ، سزا کے لائق ہیں ، ” کیونکہ ” جرم سے بری ہونے کے لئے ضروری ہے کہ عصمت دری کا شکار عورت اچھے کردار کا مظاہرہ کرے”۔ (ٹیلیگراف 11، جولائی 2004)

1998 میں انڈونیشیا میں انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے اداروں کے 100 سے زائد چینی خواتین کی رواداد شائع کی جن کیساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی یہ دلسوز واقعات صدر شراتو کی حکومت کے تختہ الٹنے سے پہلے بغاتوں کے دوران پیش آئے۔ ان میں سے بیشتر سے یہ کہا گیا کہ : ضرور ہے کہ تمہاری عزتیں لوٹی جائیں کیونکہ تم چینی نثزاد ہو اور غیرملسم ہو! یہ سورۃ 33:59 کے عین مطابق ہے "مومنو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرکے ان کو ہاتھ لگانے (یعنی ان کے پاس جانے) سے پہلے طلاق دے دو تو تم کو کچھ اختیار نہیں کہ ان سے عدت پوری کراؤ۔ ان کو کچھ فائدہ (یعنی خرچ ) دے کر اچھی طرح سے رخصت کردو”  ، ایک موقع پر محمد نے ایک مرد کو جو کہ زنا کا مرتکب ہوا تھا کوڑوں کی سزا سنائی ، لیکن عورت کو سنگسار کے ذریعے موت کے گھاٹ اتارنے کی (البخاری ، جلد نمبر 3؛ حدیث نمبر 860)

اس کے برعکس جناب مسیح کا ارشاد مبارک ہے کہ ” اگر آپ نے کسی عورت کی طرف بری نئیت سے نگاہ کرلی تو گویا آپ نے زنا کرلیا ” ( انجیل بمطابق متی رسول 5:28) ان آیات کی روشنی میں مسیحی مرد حضرات سے یہ تقاضا کیا جاتا ہے کہ وہ نوجوان عورتوں کو اپنی بہنوں کی نظر سے دیکھیں اور عمررسیدہ خواتین کو اپنی ماؤں کی حیثیت سے مقدم جانیں (1-تیمتھیس 5:2)

پردہ داری :

مارچ 2002 کو شہر مکہ میں اسکول نمبر 31 میں ایک اندھوناک واقعہ پیش آیا، جب سعودی عوام نے 15 لڑکیوں کی لاشیں اور 40 سے زائد لڑکیوں کو زخمی حالت میں پایا، واقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک اہل اسلام کے مقدس شہر مکہ کے ایک اسکول میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، لڑکیاں ایک کمرے میں بند تھیں جب یہ آگ بھڑک اٹھی۔ فائر فائٹرز نے جب چاہا کہ دروازہ کو کھول دیا جائے تو انہیں متاواہ (مذہبی پولیس ) نے انہیں جبراً روک دیا کہ وہ لڑکیاں باہر آسکیں  کیونکہ وہ لڑکیاں حجاب کے بغیر تھیں ۔ (نیوز ویک مورخہ 22 جولائی، سنہء 2002)

قرآن میں سورۃ 24:31 میں لکھا ہے کہ  "اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش (یعنی زیور کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیا کریں مگر جو ان میں سے کھلا رہتا ہو۔ اور اپنے سینوں پر اوڑھنیاں اوڑھے رہا کریں اور اپنے خاوند اور باپ اور خسر اور بیٹیوں اور خاوند کے بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجیوں اور بھانجوں اور اپنی (ہی قسم کی) عورتوں اور لونڈی غلاموں کے سوا نیز ان خدام کے جو عورتوں کی خواہش نہ رکھیں یا ایسے لڑکوں کے جو عورتوں کے پردے کی چیزوں سے واقف نہ ہوں (غرض ان لوگوں کے سوا) کسی پر اپنی زینت (اور سنگار کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیں۔ اور اپنے پاؤں (ایسے طور سے زمین پر) نہ ماریں (کہ جھنکار کانوں میں پہنچے اور) ان کا پوشیدہ زیور معلوم ہوجائے۔ اور مومنو! سب خدا کے آگے توبہ کرو تاکہ فلاح پاؤ”

اللہ کے نبی محمد نے عاصمہ ابوبکر کی بیٹی سے کہا ، ” کہ وہ لڑکیاں جو حیض کی عدت پوری کرچکی ہوں، سوائے اپنے ہاتھوں اور چہرے کے خود کو مکمل طور پر ڈھانپیں ، ( ابوداؤد، جلد نمبر 3، حدیث نمبر 4092)

بیاہ:

البخاری ، جلد نمبر 7، حدیث نمبر 17: جب میرا بیاہ ہوا تو اللہ کے پیغمبر نے مجھ سے کہا، ” تم نے کس طرح کی عورت سے شادی رچائی ہے؟ ، ” میں نے جواب دیا، ” ایک بڑی عمرکی عورت سے ، ” اللہ کے پیغمبر نے مجھ سے کہا ، ” تم نے ایک کم عمر لڑکی سے شادی کیوں ںہیں کی، تاکہ تم اسے سے لطف اندوز ہوسکتے اور وہ تم سے "۔

محمد کے مطابق کسی کنواری کا خاموش رہنا اس بات کا عندیہ ہے کہ وہ رشتہ ازدواج سے منسلک ہونا چاہتی ہے ۔ (البخاری جلد نمبر 7، حدیث نمبر 67) آئیت اللہ خیمینی کا کہنا تھا کہ کمسن لڑکی جسے ابھی حیض نہ آئے ہوں "الہی بخشش” ہے اور لڑکیوں سے ان کے حیض کے دنوں سے پہلے شادی کرنا چاہئیے۔ (طاہری 1986، صحفہ نمبر 91-90) محمد نے 6 سال کی کمسن بچی سے شادی رچائ (البخاری جلد نمبر 7، حدیث نمبر 64) اور اس کی کئی بیویاں تھیں۔

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ زواج المسیار جائز نہیں ، منع ہے لیکن محمد نے زواج المسیار کی اجازت دی جب اس کے سپاہیوں کو ان کی ضرورت تھی (سورۃ 4:24؛ اور البخاری جلد نمبر 7، حدیث نمبر 51) پہلے خلیفہ (اول) نے اسے جاری و ساری رکھا، صرف خلیفہ دوم نے اسے معطل کیا لیکن آخری خلیفہ (صدیق الزماں) نے ازدواج المسیارکو دوبارہ جاری کردیا ۔ اس قسم کے نکاح کے لئے حق مہر کچھ کھجوریں اور آٹا کی قلیل مقدار مخصوص کی گئی ( ابو داؤد ، جلد نمبر 2، حدیث نمبر 2105)

عام حالات میں :

البخاری کی ایک حدیث (جلد نمبر 1، حدیث نمبر 490) کیمطابق عورتیں، کتے اور گدھے کسی مرد کی نماز قضا کرسکتے ہیں ۔ جبکہ اس کے برعکس بائبل مقدس کا کہنا ہے کہ ، ” اے شوہرو، تم اپنی بیویوں کے ساتھ عقلمندی سے بسر کرو اور عورت کو نازک ظرف جان کر اس کی عزت کرو اور یوں سمجھو کہ ہم دونوں زندگی کی نعمت کے وارث ہیں تا کہ تمہاری دعائیں نہ رک جائیں” ۔ ( 1 پ پطرس 3 باب اس کی 7ویں آئیت)

محمد کی دلاری بیوی عائشہ فرماتی ہیں ، ” اے عورتو! اگر آپ اس حق کو جانتی جو تمہارے شوہروں کو تم پر ہے تو تم اپنے چہروں سے انکے پاؤں کی دھول کو صاف کرتیں”،

Al-Hashimi, M. The Ideal Muslimah, (1996), Chapter, 4

محمد نے یہ تعلیم دی کہ عورتوں کو علیحدہ کمروں میں بند کردیا کرو، اور زود کوب کیا کرو، لیکن زیادہ سختی سے نہیں۔ عورتوں سے اچھی طرح سے پیش آؤ کیونکہ وہ پالتو جانوروں (آوان) کی طرح سے تمہارے ساتھ کردی گئیں ہیں ، اور ان کی ملکیت میں کچھ رکھ نہ چھوڑو۔”

The History of al-Tabri, Volume IX, pg 113

اس کے برعکس، عورتوں کے حقوق اور عزت و منزلت کے حوالے سے، مسیحیوں کا تصور بالکل جدا ہے ۔ بائبل مقدس فرماتی ہے کہ ، ” اور تم سب جتنوں نے مسیح میں شامل ہونے کا بپتسمہ لیا مسیح کو پہن لیا۔ نہ کوئی یہودی رہا نہ یونانی۔ نہ کوئی غلام نہ آزاد۔ نہ کوئی مرد نہ عورت کیونکہ تم ‘سب مسیح یسوع میں ایک ہو۔ ” (گلتیوں کا خط 3 باب اس کی 28 تا 29 آیات)

شوہروں کو یہ تاکید کی گئی ہے کہ وہ اپنی بیویوں سے پیار کریں، محبت سےپیش آئیں ایسے جیسے جناب مسیح اپنی کلیسیاء سے کرتے ہیں اور اپنی جان کلیسیاء کے صلیب پر گزرانی ۔ (افسیوں کے نام خط 5:25) ؛ نہ ہی ان پر غصہ ہون اور برے طور پر پیش آئیں (کلسیوں 3:19)؛ اپنی بیویوں سے اپنی مانند محبت کریں (افسیوں 5 باب اس کی 28 تا 33 آیات) اور ان سے نرمی سے پیش آئیں، ( 1 کرنتھیوں 7 باب 3 تا 5 آیات)

شوہروں اور بیویوں کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ مسیح خداوند کے لئے ایک دوسرے کے  تابع رہیں (افسیوں 5:21) ، لیکن شوہر اپنی بیویوں کی ذمہ داری، خبرگیری کریں ۔  (ا-تیمتھیس 5:8)

افسیوں 5:31 کیمطابق ، خدا کی نظر میں یکدل ، یک جان ہوں، یہاں تک کہ طلاق سے خدا کو نفرت ہے ( ملاکی 2:16)۔ آدمیوں اور عورتوں سے متعلق سلوک، قرآن اور بائبل میں واضع طور پر مختلف ہے۔

ممکن ہے کہ جو معلومات اس کتابچہ کے ذریعے سے آپ کو فراہم کی گئیں آپ کے اذہان میں کچھ سوالات اٹھائیں۔ مسلمانوں کو یہ تاکید کی گئی ہے کہ اس کلام کو جو یہودیوں اور مسیحیوں کے لئے نازل ہوا اس سے مستفید ہوں ، اور اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ کتب انسانی دسترس سے محفوظ نہ رہ سکیں تو یاد رکھئے کہ قرآن میں خود آیا ہے کہ خدا تعالیٰ کا کلام کسی طور پر بھی رد و بدل کا شکار نہیں ہوسکتا۔ (سورۃ 6:115؛ سورۃ 10 اسکی 64 تا 65 آیات؛ سورۃ 18:27؛ 48:23) اگر آپ کتاب مقدس کی صداقت و حقانئیت کے متعلق مذید جاننا چاہتے ہیں تو درج ذیل پتہ پر رجوع کیجئے

]]>
https://zindagitv.online/tv-shows/%__tv_shows_id%/feed/ 0
حقانیت کتاب مقدس https://zindagitv.online/tv-shows/%__tv_shows_id%/ https://zindagitv.online/tv-shows/%__tv_shows_id%/#respond Mon, 23 May 2022 11:59:08 +0000 http://ztv.altarik.net/?p=17332 Read more »]]> اسلامی کتب میں قرآن اور احادیث ہی حرف ِ آخر ہیں ۔ مسلمان یہ ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن اللہ کا الہی مکاشفہ ہے، (مختلف ترجموں میں آئیتوں میں خفیف سا اختلاف پایا جاتاہے)۔ ہر سورۃ پورے باب کا پیشہ خیمہ ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق محمد مرد کامل کے طور پر ایک نمونہ ہیں جس کی تقلید ہر مسلمان پر فرض ہے۔ جو کچھ انہوں نے کہا اور عمل میں لائے وہ حدیث کہلاتی ہے۔ احادیث چھ طرح کی ہیں۔ احادیث : بخاری ، مسلم، ابو داؤد ، ترمزی، سنن ابنِ ماجہ، اور سنن نسائی۔ اس کتابچہ کا مقصد یہ ہے کہ آپ کو محمد کی تعلیمات اور انکے کاموں سے روشناس کروایا جائے، نہ کہ ان کے جذبات کو برانگیختہ کیا جائے؛ مسلمانوں کو کسی حد اپنے خدا  کے بارے میں آگاہی ہو کہ اس موضوع کے حوالے سے اللہ اور محمد نے کیا کہا ہے۔

ڈکشنری میں بیان کردہ معنوں کے مطابق "اصلی” کسی چیز کا اپنی موجودہ حالت میں اپنی ابتدائی حالت کے مطابق ہونا ہے جو کسی بھی شک و شبہ سے بآلاتر ہو۔ مزید مترادف الفاظ میں جو جعلی کے عین ہیں ، ان میں میں ، مستند ، معتبر، حقیقی جیسے الفاظ شامل ہیں ۔

بائبل مقدس صرف ایک کتاب نہیں، بلکہ 66 دیگر کتب پر مشتمل ہے جو عہدعتیق اور عہد جدید میں منقسم ہے۔ یہ مختلف کتب کس طرح سے احاطہء تحریر میں آئیں؟، وہ کون لوگ تھے جنہوں نے انہیں لکھا؟ اور کس طرح سے کچھ خاص کتابیں بائبل مقدس کا حصہ بن پائیں؟ اور اللہ، بائبل مقدس کے بارے میں کیا رائے رکھتا ہے ؟

بائبل مقدس سے متعلق اسلامی تعلیمات:

اندرونی طورپر اسلامی تعلیمات تضاد کا شکار ہیں۔ ایک طرف تو پاک صحیفوں کو اعلی رتبے سے نوازا جاتا ہے اور دوسری طرف یہ دعوی بھی کیا جاتا ہے کہ یہ کتب تحریف کا شکار ہوچکیں ہیں ، اپنی اصل حالت میں موجود نہیں!

یہودی و مسیحی صحائف کو قرآن میں نہائیت ادب و احترام کے ساتھ مخاطب کیا گیا ہے ، اور نہائیت معزز القابات سے نوازا گیا ہے ، خدا کی کتاب، خدا کا کلام، بنی نوع انسان کے لئے نور و ہدایت، معیار القدر، انجیل جو کہ ہدایت و نور ہے اور پچھلی کتاب یعنی توارۃ کی تصدیق کرتی ہے ، اور جو خدا تعالیٰ سے ڈرتے ہیں ان کے لئے ہدائیت اور انتباہ ہے۔

سورۃ 5:46

وَقَفَّيْنَا عَلَىٰ آثَارِهِم بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ ۖ وَآتَيْنَاهُ الْإِنجِيلَ فِيهِ هُدًى وَنُورٌ وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِينَ

ترجمہ: اور ان پیغمبروں کے بعد انہی کے قدموں پر ہم نے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا جو اپنے سے پہلے کی کتاب تورات کی تصدیق کرتے تھے اور ان کو انجیل عنایت کی جس میں ہدایت اور نور ہے اور تورات کی جو اس سے پہلی کتاب (ہے) تصدیق کرتی ہے اور پرہیزگاروں کو راہ بتاتی اور نصیحت کرتی ہے ۔

سورۃ 5:47 ؛ اور سورۃ 5 کی 68ویں اور 69ویں آیات ۔ سورۃ 5:47 مسیحیوں کو ہدائیت فرماتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے بارے میں سچائی جاننے کے لئے ان کے پاس پہلے سے موجود صحائف سے رجوع کریں۔ اللہ نے محمد سے کہا کہ مشورہ کے لئے مسیحیوں اور یہودیوں سے رابطہ کریں۔

سورۃ 10:94

 فَإِن كُنتَ فِي شَكٍّ مِّمَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ فَاسْأَلِ الَّذِينَ يَقْرَءُونَ الْكِتَابَ مِن قَبْلِكَ ۚ لَقَدْ جَاءَكَ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ

ترجمہ:

اگر تم کو اس (کتاب کے) بارے میں جو ہم نے تم پر نازل کی ہے کچھ شک ہو تو جو لوگ تم سے پہلے کی (اُتری ہوئی) کتابیں پڑھتے ہیں ان سے پوچھ لو۔ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس حق آچکا ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا

سورۃ 10:95

وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِ اللَّهِ فَتَكُونَ مِنَ الْخَاسِرِينَ

ترجمہ؛

اور نہ ان لوگوں میں ہونا جو خدا کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں نہیں تو نقصان اٹھاؤ گے

مزید دیکھئے سورۃ 2:41

قرآن کا دعویٰ ہے کہ کلام خدا کو کوئی تبدیل نہیں کرسکتا!

(سورۃ 6 اس کی 115 اور 116 آیات؛ 10:64؛ سورۃ 18 اس کی 27 تا 28 آیات؛ 48″23؛ سورۃ 50 اس کی 28 تا 29 آیات) اس کے باوجود مسلمان مذہبی علماء عام مسلمانوں کو یہ تعلیم دیتے ہیں کہ یہودیوں نے اپنی پاک کتابوں کو بدل ڈالا، ( سورۃ 2 اس کی 41 تا 42 ، اور 59 آیات؛ 3:71، 3:78 ؛ 4:46) اور کچھ کوپاک صحائف کے بارے میں کسی قسم کی معلومات حاصل نہیں (سورۃ 2:78) ایک مسلم علم الہیات کا ماننا  ہے کہ ” اس کے باوجود کے ان صحائف میں گڑبڑ کی گئی ، مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ توراۃ ، زبور، اور انجیل شریف  کو الہامی مانیں۔ "

یہ ایک متنازعہ بیان ہے کیونکہ حقیقت میں اللہ اور محمد مسلمانوں کو کبھی یہ ہدائیت نہیں دے سکتے تھے کہ وہ ایک تحریف شدہ ، ضحیف توراۃ اور انجیل کو الہامی مانیں۔ وہ توراۃ اور انجیل جو محمد کے بقید حیات کے وقت مسیحیوں کے ہاتھوں میں موجود تھی ، حقیقتاً مستند مانی جاتی ہوگی ۔ تو آئیے دیکھتے ہیں کہ 600ء کےبعد سے کتاب مقدس میں کوئی تبدیلی رونما ہوئی کہ نہیں۔

پرانا عہد نامہ:

مسیحیوں کی کتاب مقدس جو کہ 39 کتب پر مشتمل ہے، یہودیوں کے لئے بھی پاک کتاب ہے ۔ یہ سب سے پہلے عبرانی زبان میں لکھی گئی ، جن میں سے مخصوص حصے جن کی تعداد قلیل ہے ارامی زبان میں تحریر ہوئے جو کہ یہودیوں کی قدیم زبان تھی۔

1947 تک عہدعتیق کے نسخہ جات کا تعلق 9 ویں اور 10ویں صدی بعد از مسیح سے تھا، لیکن 1947 میں بحیرہء مردار کے طوماروں کی دریافت نے صورتحال تبدیل کردی ۔ 1956 تک 800 طومار دریافت ہو چکے تھے۔ جن کا زمانہ 200 قبل از مسیح سے 68 بعد از مسیح کا ہے ۔ اور یہ طومار ہو بہو ان نسخوں سے مشبہات رکھتے ہیں جن کا تعلق 9 ویں صدی عیسوی سے ہے۔ اس ایک ہزار سال کے عرصے میں کاتبین نقل کرتے ہوئے نہائیت ہی خفیف سے غلطی کے مرتکب ہوئے۔  دوسرے لفظوں میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ آج جو عہدعتیق مسیحیوں کے پاس دستیاب ہے یہ ہو بہو اس ہی کی نقل ہے جو محمد کے دنوں میں مسیحیوں کے زیر استعمال تھا۔

عہدنامہ جدید:

کچھ مسلمانوں کا خیال ہے کہ جس انجیل کی قرآن بات کرتا ہے وہ اس انجیل سے مختلف ہے جو مسیحیوں کے زیر استعمال ہے ۔ جو چار انجیلیں چرچ نے مستند ٹھہرائی ہیں وہ ان پر اعتراض اٹھاتے ہیں۔ ان کے مطابق انجیل جو مسیح یسوع پر نازل ہوئی، جو انہوں نے سنائی اور جس کی تعلیم دی وہ ایک ہی تھی۔ وہ کچھ ٹکڑوں میں موجودہ انجیل میں دستیاب ہے، مکمل طور پر نہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ متن کے ساتھ گڑبڑ کی گئی ہے ۔

اگر ہم لغوی معنوں میں کہیں، تو عہدجدید کے کئ سو کی تعداد میں موجود نسخے محمد کی بعثت سے پہلے کے ہیں، جو اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ انجیل مقدس کی نقول ، اصل متن سے صحیح طور پر منتقل ہوئیں ہیں۔ عہدجدید کی صحت و قدامت کا مقدمہ باقی قدیم کتب کی نسبت اعلی پایہ کا ہے جس کی نہج کو کوئی بھی نہیں پہنچ سکتا۔ وہ انجیل مقدس جو محمد کے زمانے میں مسیحیوں میں رائج تھیں، اور جو آج مسیحیوں کے زیر استعمال میں ہے رتی بھر بھی فرق نہیں۔ مسلمانوں کا یہ اعتراض ، وافر مقدار میں موجود قلمی نسخوں کی وجہ سے متضاد ٹھہرتا ہے ۔

اعلی الہام:

بعض اوقات بائبل مقدس کے بارے مسلمانوں کے میں خیالات ابہام کا شکار معلوم ہوتے ہیں۔ ایک مشہور و معروف جدت پسند مسلمان عالم محمد عبدو لکھتے  ہیں ، ” بائبل ، نیا عہد نامہ ، اور قرآن تینوں ہم آہنگ کتابیں ہیں؛ مذہبی انسان ان تینوں کتابوں کا مطالعہ کرتے اور ان کی تعظیم کرتے ہیں ۔ اور اس طرح سے الہی تعلیم مکمل ہو جاتی ہے ، اورسچا مذہب صدیوں تک آب و تاب سے چمکتا ہے۔ دوسروں کا کہنا ہے کہ یہودی دین ، انصاف اور حق پر زور دیتا ہے ، جبکہ مسیحیت، محبت اور خیرات یا صدقہ پر اور اسلام امن اور بھائی چارے پر۔ "

کچھ تمام عہدنامہِ عتیق کو رد کردیتے ہیں ، اور کچھ توراۃ میں سے اپنی من پسند آیات کو استعمال کرکے بنو اسرائیل کی بری عادتوں کے خلاف نیز ان کے دین کے خلاف شہادتیں پیش کرنے میں منہمک رہتے ہیں۔

کچھ مسلمانوں کے نزیدیک بائبل کی صحت تمام شکوک سے بآلاتر ہے ، لیکن وہ الہام کے ارتقائی نظریہ کیمطابق یہ ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن پچھلے تمام الہامات سے افضل حیثیت کا حامل ہے ۔ ان کے مطابق، قرآن ، خدا تعالیٰ کی جانب سے عطاکردہ الہام کی آخری کڑی ہے ۔

کیونکہ اگر یہ سچ ہے تو یہاں اس موڑ پر اسلام کے لئے ایک بہت بڑا مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے ۔ کیونکہ محمد کے ایام میں انجیل مقدس کا بیان ہے کہ یسوع المسیح خدا کا بیٹا ہے ، اور اگر قرآن اس بنیادی نقطہ نظر سے اختلاف رکھتا ہے تو اس کے (قرآن) الہامی ہونے پر شک کی گنجائش پیدا ہوجاتی ہے ، کیونکہ کلام مقدس (بائبل مقدس) کا خدا لاتبدیل ہے ۔ دیکھئے عہد عتیق سے ( عدد (گنتی) 23 باب اس کی 19؛ 1- سیموئیل 15:20؛ ملاکی 3:6) ، لیکن جیسا کہ ہم پہلے ظاہر کرچکے ہیں ، بائبل مقدس کے حوالے سے قرآن خود ہی اندرونی انتشار و اختلاف کا شکار ہے ۔

ان اسلامی اعتراضات کے جوابات :

قرآن میں موجود اندرونی انتشار و اختلافات ، مسیحیوں اور یہودیوں سے روا سلوک کے ذریعے سے صاف طور پر ظاہر ہو جاتا ہے۔ محمد کی زندگی کے ابتدائی ایام میں ، جب وہ ایک کمزور اور حاجتمند تھا، وہ یہ تعلیم دیتا تھا کہ مسیحی اور یہودی قابلِ احترام ہیں ، لیکن جیسے جیسے وہ قوت پکڑتا گیا ، اس کا رویہ بھی بدلتا چلا گیا اور وہ مسیحیوں اور یہودیوں کو قتل کرنے کے بہانے ڈھونڈنے لگا۔ ( ہمارا کتباچہ ملاحظہ فرمائیے: مسیحی اور یہودی اسلام میں )

سوال جو آپ کو ضرور سوچنے چاہیے؟

1۔ اگر کتاب مقدس تبدیل ہو چکی ہے تو پھر مسلمانوں کو یہ تنبیہ کیوں کہ وہ توراۃ ، زبور، اور انجیل پر ایمان رکھیں ؟

2۔ خداتعالیٰ کا پاک فرمان ہے کہ اس کا کلام لاتبدیل ہے ، پھر اس الہیٰ دعوی کا کیا کیجیئے گا؟

3۔ اور کلام الہیٰ کب تبدیل ہوا، کیا خدا نے اس کا نوٹس لیا؟

4۔ اگر خدا کا ارادہ ہوتا، تو کیا وہ اپنے کلام کی حفاظت کرسکتا تھا؟

5۔ اور اگر خدا تعالیٰ اپنے کلام کی حفاظت نہ کرسکا یا نہیں کرسکتا تھا، اور کیوں اور کسطرح ہم یہ سمجھ لیں کہ وہ قرآن کو محفوظ رکھ سکتا تھا؟

6۔ قرآن میں یہ اعتراض تحریری طور پر موجود ہے کہ کتب مقدسہ تحریری طور پر تبدیل ہوچکی ہیں ؟

7۔ اور اگر بائبل مقدس تبدیل ہو چکی ہے تو پھر قرآن میں یہ کیوں آیا ہے کہ وہ توراۃ کے مطابق انصاف کریں، یا مسیحیوں کے لئے کہ وہ انجیل سے ! (سورۃ 5 اس کی 43 تا 48 آیات) دوسرے لفظوں میں محمد یا مسلمان کس بنا پر کتاب مقدس کے مطابق انصاف کا تقاضا کرسکتے ہیں اگر وہ بدل چکی ہے؟

8۔ جب ہزاروں کی تعداد میں مختلف تراجم موجود ہوں، نقول دستیاب ہوں تو کوئی کس طرح سے ان تمام کتب کو تبدیل کرسکتا ہے ؟

9۔ کب اور کہاں ، لاتبدیل شدہ بائبل مقدس گردش میں تھی ، اور اب وہ کہاں ہے ؟

10۔ اگر یہودیت اور مسیحیت دو مختلف مذاہب ہیں تو ان کی اس سازش کا مقصد کیا تھا، مسیحی حضرات اپنی کتاب مقدس کو کیوں تبدیل کرنا چاہئینگے؟

11۔ مسیحی اپنی کتاب جو کہ تبدیل شدہ ہو ، کیوں موت گوارا کرلینگے؟

12۔ آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ کتاب مقدس تبدیل ہو چکی ہے ؟

مبارک مزامیر میں زبور 19 اس کی 7 سے 11 میں خدا تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ، ” خدا کی شریعت کامل ہے ۔ وہ جان کو بحال کرتی ہے ۔ خداوند کی شہادت برحق ہے ۔ نادان کو دانش بخشتی ہے ۔ خداوند کے قوانین راست ہیں۔ وہ دل کو فرحت پہنچاتے ہینَ خداوند کا حکم بے عیب ہے ۔ وہ آنکھوں کو روشن کرتا ہے۔ خداوند کا خوف پاک ہے ۔ وہ ابد تک قائم رہتا ہے۔ خداوند کے احکام برحق اور بالکل راست ہیں ۔ وہ سونے سے بلکہ بہت کندں سے زیادہ پسندیدہ ہیں ۔ وہ شہد سے بلکہ چھتے کے ٹپکوں سے بھی شیرین ہین۔ نیز ان سے تیرے بندے کو آگاہی ملتی ہے ۔ انکو کو ماننے کا اجر بڑا ہے۔ "

توراۃ کی تعلیمات (شریعت خداوندی) خدا تعالیٰ کا وہ نظام اعلی ہے جس کے تحت انسانوں کوایسی  تعلیم فراہم کیجاتی ہے جس کے ذریعے سے  خدا کے بارے میں علم حاصل کرسکیں ، اس کو جان سکیں اور انہیں وہ ہدایات نصیب ہوتی ہیں جن  پر چل کر وہ خدا تعالیٰ کو راضی رکھ سکیں، اور اپنی ٹیڑھی راہوں سے باز آسکیں ۔

تو پھر آپ یہ کس طرح سوچ سکتے ہیں یا کہہ سکتے ہیں کہ خداتعالیٰ ، جو کہکشاؤں کا ، زمین کا خالق و مالک ، اس بات پر راضی ہو جائے کہ اس کے کلام میں تحریف کی جائے؟ وہ اپنے کلام کی خود حفاظت کرتا ہے کیونکہ جو کچھ اس نے فرمایا ہے اسے ضرور ہونا ہے! ورنہ وہ جھوٹا ٹھہریگا۔ خدا تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو کچھ اس نے کہا وہ ضرور اسے پورا کریگا۔ اس کی گواہی اور صداقت ، کتاب مقدس کے مستند ہونے پر انحصار کرتی ہے ۔

]]>
https://zindagitv.online/tv-shows/%__tv_shows_id%/feed/ 0
صلیبی جنگیں https://zindagitv.online/tv-shows/%__tv_shows_id%/ https://zindagitv.online/tv-shows/%__tv_shows_id%/#respond Mon, 23 May 2022 11:53:44 +0000 http://ztv.altarik.net/?p=17327 Read more »]]> صلیبی جنگیں

اسلام اور مسیحیت کے مابین تعلقات سے متعلق غلط فہمیاں اکثر اوقات صلیبی جنگوں کی اصل حقیقت سے لاعملی کی بنا پر ہوتی ہیں ۔ اہل مغرب کو یہ بتلایا جاتا ہے کہ مسلمان ، مسیحی اور یہودی ایک پرامن ماحول میں مل جل کر رہ رہے تھے! کیا واقعی ایسا ہی تھا؟

فلسطین کے حالات:

12 صدی عیسوی میں ملک شام کا ایک بزرگ مسیحی جس کا تعلق یعقوبی فرقے سے تھا ، گزشتہ دور کے متعلقہ دور کے ذرائع اپنی مشہور زمانہ سرگزشت میں اختصار کے ساتھ فلسطین میں مسیحیوں کے موجودہ حالات کچھ اس طرح سے بیان کرتا ہے :

"ترک شام اور فلسطین پر حکمران تھے ، وہ ان مسیحیوں پر مظالم ڈھایا کرتے تھے جو یروشلیم میں عبادت کے لئے جاتے تھے ، وہ انہیں مارتے پیٹتے ، لوٹتے، شہر کے مرکزی دروازے اور گلگتا اور القبر المقدس پہ مسیحیوں سے سروے ٹیکس اور جزیہ وصول کرتے ، اور مزید یہ کہ وہ ہر اس کارواں کو جو روم یا اٹلی سے آتا تھا ، پوری کوشش کرتے کہ انہیں کسی نہ کسی طرح موت کے گھاٹ اتار دیں۔ اور جب بہت سے مسیحی تباہ وبرباد ہوگئے تو جذبہ ایمانی کے تحت بہت سے بادشاہ اور رؤسا ایک جگہ جمع ہوگئے اور شہر روم سے رخت سفر باندھا اور قسطنطنیہ میں آ پہنچے۔

First Crusade (1096-99). (The Decline of Eastern Christianity under Islam, 1996.p.292-293)

سنہء 1095 ، محمد کی رحلت کے 463 سال بعد جو پہلی صلیبی جنگ لڑی گئی وہ اصل میں ایزارسانیوں میں مبتلا ان مسیحیوں کی التجاؤں کا جو ارض مقدس میں مقیم تھے جواب تھی ۔ مسیحی قوم جو ایک وقت میں وہاں پر اکثریت میں تھی اب خود کو  ایک پسی ہوئی اقلیت میں دیکھ رہی تھی ۔ پرامن طریقے  سنہء 632 عیسوی میں محمد وفات پاگیا ، اس دوران میں مسلمان اور مسیحی کس   سے ایکدوسرے کے ساتھ مل جلکر رہے ، قابل ذکر ہے۔

مسلمانوں کیساتھ پرامن رفاقت:

جب محمد بستر مرگ پر اپنی آخری سانسیں گن رہا تھا ، اس نے اپنے پیرؤکاروں کو حکم جاری کیا کہ غیر مسلمانوں جزیرہ عرب سے خارج کردو (البخاری ، حدیث نمبر 716، جلد نمبر 5) کوئی رعائیت نہیں دی گئی !

خلیفہ عمر ، میثاق عمر کے حوالے سے کافی مشہور ہے، جسمیں دیگر چیزوں کے علاوہ مسیحیوں کی تذلیل اور اسلام نہ قبول کرنے کی صورت میں مسیحیوں اور یہودیوں کے ہتک آمیز اہانت کے حوالے سے کافی تفیصلات موجود ہیں۔ یہ میثاق سورۃ 9:29 اور 9:5 میں موجود محمد اور اللہ کی ہدایات کے مطابق تیار کیا گیا تھا۔ ( مزید دیکھئے ابن کثیر کی سورۃ 9:29 کی تفسیر)

سورۃ9:29 :قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّىٰ يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَن يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ

جو اہل کتاب میں سے خدا پر ایمان نہیں لاتے اور نہ روز آخرت پر (یقین رکھتے ہیں) اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جو خدا اور اس کے رسول نے حرام کی ہیں اور نہ دین حق کو قبول کرتے ہیں ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ ذلیل ہوکر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں۔

سورۃ 9:5فَإِذَا انسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ وَخُذُوهُمْ وَاحْصُرُوهُمْ وَاقْعُدُوا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ ۚ فَإِن تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

جب عزت کے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کر دو اور پکڑلو اور گھیرلو اور ہر گھات کی جگہ ان کی تاک میں بیٹھے رہو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے لگیں تو ان کی راہ چھوڑ دو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

وہ ریاستیں جو بحیرہ روم کی سرحدوں پر واقع ہیں، محمد کی وفات سے لیکر پہلی صلیبی جنگوں تک، یعنی 463 سالوں تک مسلمانوں کے خونی حملوں کے شکار رہیں، جن کا مقصد لوٹ مار سے مال حاصل کرنا ، (قیمتی پتھر، دھاتیں اور غلام) اسلام کو پھیلانا ، گرجاگھروں کو ڈھانا اور مسیحیت کو نیست و نابود کرنا تھا۔ انہوں نے شام، شمالی افریقہ، ساردینہ اور اسپین کا بیشتر علاقہ اپنے قبضہ میں کرلیا۔ وہ اکثر و بیشتر فرانس ، اٹلی اور ایڈرائٹیک ریاستوں پر حملہ آور ہوتے رہتے تھے۔

تاریخ دان جناب پال سٹین ہاؤس 1095 کی پہلی صلیبی جنگ سے پہلے مسلمانوں کی جنگوں فہرست فراہم کرتے ہیں ۔

(Crusades in Context,’ Annuls Australia, July 2007)

وفات محمد (632 عیسوی)

مسوپتامیہ کی شکست    633

دمشق                      635

یروشلم                     638

اسکندریہ                   645

قبرص                      649

قسطنطنیہ پر حملہ        673

تمام مسیحی شمالی افریقہ پر غلبہ693                          

اسپین پر حملہ    711

سارگوسہ پر غلبہ          721

پوئیٹیز                       732

آواگون                       734

لیونز                   743

اسپین کی بندرگاہ کی تباہی813                          

کریت (961 تک)                    826

نیپلز کی تباہی           837             

مارسلیز                                838

سسلی                                   842-859

روم ایکبار پھر تباہ       846

مالتے                                    870

صلیبی جنگوں سے 223 سال پہلے !

سیراکوس مغلوب ہوا (9 مہینے کا محاصرہ؛ زندہ بچ جانیوالوں کی قلیل تعداد)       878

تولون (شمالی اٹلی)                  889

وسطی یونان ، تھیسلے نذرِآتش اور برباد کیا گیا      902

921 عیسوی میں انگریز عقیدتمندوں کا ایک انبوہ کثیر روم میں رسولوں کے مقبروں کی زیارت پر روانہ ہوا، جنہیں راستے میں سارکینوں نے آلپس کے دروں پر پہاڑوں کی چٹانیں گرا کر کچل دیا۔

 جنیوا پر حملہ کیا گیا                   935

اٹلی پر ایک اور حملہ                   976

جنوبی اٹلی (کوسنزا) مغلوب ہوا        1010

ساردینا                                     1015

سنہء 1017 عیسوی میں مجاہد بن عبداللہ (سردینا کا حکمران) نے پوپ کو ایک پیغام کہلا بھیجا کہ وہ روم پر موسمِ بہار میں حملہ کردیگا۔ بجائے اس کے موسم بہار کا انتظار کیا جاتا، پوپ نے اس پر فوج کیساتھ چڑھائی کردی ، جب بینڈکیٹ سردینا میں پہنچے تو انہیں یہ دیکھ کر دھچکا لگا کہ مجاہد ، ساردینا کے مسیحیوں کو مصلوب کر رہا تھا، مجاہد بھاگ گیا۔

یقنناً آپ نے اندازہ لگا لیا ہوگا کہ مسیحی ، یہودی اور مسلمان کتنے میل ملاپ سے رہا کرتے تھے، صریحا جھوٹ ہے ۔ یہ معمولی نوعیت کی مثالیں ہیں جن کا تعلق اسلام کے سنہری دور سے ہے۔ مسلمان 1095 میں لڑی گئی پہلی صلیبی جنگ کے بعد ، غیر مسیحیوں سے متواتر جنگیؐں لڑتے رہے جو 1683 میں ویانا میں اپنے عروج پر ختم ہوئی ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمان فوجیں کتنی آگے تک بڑھ چکیں تھیں۔ ان کا غلبہ کسی طور پر بھی پر امن نہیں مانا جاسکتا۔ اور نہ ہی کبھی وہاں پرامن باہمی تعلقات تھے۔

خلیفہ عمر نے اپنے ایک سپہ سالار کو جسے تاریخ میں ارفجا کے نام سے جانا جاتا ہے ، ہدایات دیں ، ” کہ لوگوں کو اسلام کی دعوت دو، اور جو تمہاری دعوت کو قبول کرلیں ، (ان کی تبدیلی اسلام کو صحیح جانو) اور جو دعوت اسلام کو قبول کرنے سے انکاری ہوں ، ان کو عزت و ناموس کو خاک میں ملا کر جزیہ وصول کرو۔ اور اگر وہ پھر بھی انکاری ہوں تو پھر بے رحم تلوار ہی فیصلہ کرے۔

اور خدا سے ڈرو اس خدمت کے لئے جو تمہیں سونپی گئی ہے ۔

The History of al Tabri, The Battle of al-Qadisiyaah and the Conquest of Syria and Palestine (vol.12), [2383].p167)

کچھ لوگوں نے (جیسے کہ مصر کی کلیسیاء) نے مسلمانوں کو خوش آمدید کہا، کیونکہ انہوں نے مسلمانوں کوظالم بزنطینی حریفوں سے بہتر متبادل سمجھا۔ اور بہت جلد ہی انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا۔ بہت جلد ہی ان پر انکی کمائی کا 80٪ جزیہ کی صورت میں (حفاظتی) ٹیکس لگا دیا گیا ۔ (محمد مفتوح لوگوں سے 50٪ ٹیکس وصول کیا کرتا تھا) اور میثاق عمر پر نہائیت سفاکی سے لوگوں پر لاگو کیا گیا۔

جیسے کہ پہلے بیان کیا گیا ہے کہ پہلی صلیبی جنگوں کو مقصد اسلام کو صحفہ ہستی سے ختم کرنا نہیں تھا۔ اور اپنے سفر کے دوران مسلمانوں کے علاقوں سے بآسانی گزر جایا کرتے تھے ، بلکہ ملسمانوں کے تجارتی کاروانوں کو مسلح محافظت بھی فراہم کیا کرتے تھے ، کیونکہ ان کا مقصد یروشلیم میں موجود مقدس مقامات کی حفاظت کرنا تھا۔ گو کہ بعض مرتبہ صلیبی جنگیں سفاکانہ نوعیت کی ہوتیں تھیں اور مسیحیوں کی جانب سے انہیں تنقید کا نشانہ بھی بنایا جاتا تھا ، لیکن جو بربرئیت مسلمانوں نے گزشتہ 500 سالوں میں دکھائی ، ان سے بہرحال بہتر تھیں۔

 مسلمان صرف اللہ کی جانب سے بھیجے گئے الہام پر ہی عمل پیرا تھے، کہ اسلام پوری دنیا پر غالب آکر رہیگا (سورۃ 2:193؛ 9:33؛ 61:9) مسیحیوں نے جناب مسیح کے نقش قدم پر چلنا گوارا کیا ، کہ اپنا دوسرا گال بھی ان کی جانب کردیا، جب تک کہ سب کچھ برداشت سے باہر ہوگیا۔

محمد "پیغمبر برائے تلوار” کے نام سے  بخوبی جانا جاتا ہے ، (اس نے 81 جنگوں کی منصوبہ بندی کی اور لڑیں ) اور تلوار استعمال کرنے کی اجازت دی کہ لوگوں کو زبردستی مسلمان کیا جائے ۔ حالانکہ اللہ کو ان مسلمانوں سے نفرت ہے جو دل سے ملسمان نہیں ہوتے۔ مسلمانوں نے اللہ اور قرآن کی فرمانبرداری کرتے ہوئے لوگوں کو قتل کیا اور ان کے علاقوں پر اپنا قبضہ جمایا، مسیحیوں نے جب حملے کیے اور لوگوں کو قتل کیا تو انہوں نے جناب مسیح کی فرمانبرداری سے سرکشی کی۔

"یسوع نے اس سے کہا میاں! جس کام کو آیا ہے وہ کرلے۔ اس پر انہوں نے پاس آکر یسوع پر ہاتھ ڈالا اور اسے پکڑلیا۔ اور دیکھو یسوع کے ساتھیوں میں سے ایک نے ہاتھ بڑھا کر اپنی تلوار کھینچی اور سردار کاہن کے نوکر پر چلا کر اس کا کان اڑا دیا۔ یسوع نے اس سے کہا اپنی تلوار کو میان میں کرلے کیونکہ جو تلوار کھینچتے ہیں وہ تلوار سے ہلاک کئے جائینگے۔ ” ( انجیل شریف معرفت متی رسول اس کا 26 باب اس کی 50 تا 52 آیات)

جو مواد یہاں مہیا کیا گیا ہے ممکن ہے آپ کے اذہان میں بہت سے سوالات کو ابھارنے کا سبب بنا ہوا ۔ مسلمانوں کو یہ تاکید کی گئی ہے کہ وہ اس کلام مقدس کو جو مسیحیوں اور یہودیوں کو دیا گیا ہے پڑھیں، (سورۃ 10 اس کی 94 تا 95 آیات؛ اور 2:41) ۔ اور اگر آپ اس مغالطے کا شکار ہیں کہ وہ کتب اپنی اصل حالت میں موجود نہیں تو اللہ کا فرمان ہے کہ اس کا کلام لاتبدیل ہے ، (سورۃ 6:115؛ سورۃ 10 اس کی 64 تا 65؛ 18:27؛ 48:23)

اگر آپ کوئی سوال کے حوالے سے گفت و شنید کرنا چاہیں تو ہم سے رابطہ کیجیئے۔

]]>
https://zindagitv.online/tv-shows/%__tv_shows_id%/feed/ 0
ہدایت https://zindagitv.online/tv-shows/%__tv_shows_id%/ https://zindagitv.online/tv-shows/%__tv_shows_id%/#respond Mon, 23 May 2022 10:56:02 +0000 http://ztv.altarik.net/?p=17265 Read more »]]> ھدایت ، خدا تعالیٰ کا کام یا انسانوں کا ؟ (مسیحیت اور اسلام میں )
مذھب یا مذاھب پر حق جتانا اور انکا ھر طرح سے اپنی مرضی کے مطابق ڈھال کر استعمال کرنا ایک بات ہے ۔ اور انکی تعلیمات کو سمجھنا اور سمجھ کر عمل کرنا اور جو قیود و حدود متعین کی گئی ہیں انکی عملی پاسداری کرنا دوسری بات ہے۔

انسانوں کی ھدایت کس کا کام ہے ؟
سب انسانوں کے لئےخدا تعالیٰ کی آزاد مرضی جو چاہے ایمان لائے یا نہ لائے ؟ سورۃ ۱۸ ، ۲۹ اور اعلان کردے کہ یہ سراسر برحق قرآن تمہارے رب کی طرف سے ہے۔ اب جو چاہے ایمان ﻻئے اور جو چاہے کفر کرے۔ ﻇالموں کے لئے ہم نے وه آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناتیں انہیں گھیر لیں گی۔ اگر وه فریاد رسی چاہیں گے تو ان کی فریاد رسی اس پانی سے کی جائے گی جو تیل کی تلچھٹ جیسا ہوگا جو چہرے بھون دے گا، بڑا ہی برا پانی ہے اور بڑی بری آرام گاه (دوزخ) ہے۔
متی کی معرفت انجیل چوتھا باب ، 17اُس وقت سے یِسُو ع نے مُنادی کرنا اور یہ کہنا شرُوع کِیا کہ تَوبہ کرو کیونکہ آسمان کی بادشاہی نزدِیک آ گئی ہے۔
اگر کوئی نہ قبول کرے تو انبیا اکرام کے لئے فرمان قرآن ؟
سورۃ ۱۰ ،49 اور اگر آپ کو جھٹلاتے رہیں تو یہ کہہ دیجئے کہ میرے لیے میرا عمل اور تمہارے لیے تمہارا عمل، تم میرے عمل سے بری ہو اور میں تمہارے عمل سے بری ہوں۔
رومیوں چھ باب ، 23کیونکہ گُناہ کی مزدُوری مَوت ہے مگر خُدا کی بخشِش ہمارے خُداوند مسِیح یِسُو ع میں ہمیشہ کی زِندگی ہے۔
سورۃ ۲۹ ، 18. اور اگر تم نے (میری باتوں کو) جھٹلایا تو یقیناً تم سے پہلے (بھی) کئی امتیں (حق کو) جھٹلا چکی ہیں، اور رسول پر واضح طریق سے (احکام) پہنچا دینے کے سوا (کچھ لازم) نہیں ہے۔ 41. بیشک ہم نے آپ پر لوگوں (کی رہنمائی) کے لئے حق کے ساتھ کتاب اتاری، سو جس نے ہدایت پائی تو اپنے ہی فائدے کے لئے اور جو گمراہ ہوا تو اپنے ہی نقصان کے لئے گمراہ ہوا اور آپ اُن کے ذمّہ دار نہیں ہیں۔ ( ھدایت خدا کے احکام سورۃ المائدہ 43,47 ، سورۃ ۱۱۹ِ۲۰۰:۲۶ )
روز قیامت فیصلہ ہوگا اورخدا تعالیٰ کے اختیار میں ہوگا۔ سورۃ ۱۳ ،
40 اور اگر ہم (اس عذاب کا) کچھ حصہ جس کا ہم نے ان (کافروں) سے وعدہ کیا ہے آپ کو (حیاتِ ظاہری میں ہی) دکھا دیں یا ہم آپ کو (اس سے قبل) اٹھا لیں (یہ دونوں چیزیں ہماری مرضی پر منحصر ہیں) آپ پر تو صرف (احکام کے) پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے۔
سورۃ ۸۸، 26. پھر یقیناً ہمارے ہی ذمہ ان کا حساب (لینا) ہے۔
سورہ 16 ،61. اور اگر اللہ لوگوں کو ان کے ظلم کے عوض (فوراً) پکڑ لیا کرتا تو اس (زمین) پر کسی جاندار کو نہ چھوڑتا لیکن وہ انہیں مقررہ میعاد تک مہلت دیتا ہے، پھر جب ان کا مقرر وقت آپہنچتا ہے تو وہ نہ ایک گھڑی پیچھے ہو سکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔
مکاشفہ باب بیس ،12پِھر مَیں نے چھوٹے بڑے سب مُردوں کو اُس تخت کے سامنے کھڑے ہُوئے دیکھا اور کِتابیں کھولی گئِیں ۔ پِھر ایک اَور کِتاب کھولی گئی یعنی کِتابِ حیات اور جِس طرح اُن کِتابوں میں لِکھا ہُؤا تھا اُن کے اَعمال کے مُطابِق مُردوں کا اِنصاف کِیا گیا۔ 13اور سمُندر نے اپنے اندر کے مُردوں کو دے دِیا اور مَوت اور عالَمِ ارواح نے اپنے اندر کے مُردوں کو دے دِیا اور اُن میں سے ہر ایک کے اَعمال کے مُوافِق اُس کا اِنصاف کِیا گیا۔ 14پِھر مَوت اور عالَمِ ارواح آگ کی جِھیل میں ڈالے گئے ۔ یہ آگ کی جِھیل دُوسری مَوت ہے۔ 15اور جِس کِسی کا نام کِتابِ حیات میں لِکھا ہُؤا نہ مِلا وہ آگ کی جِھیل میں ڈالا گیا۔

روزہ کی حقیقت, اسلام اور مسیحت میں)
مبارک ماہ رمضان میں تمام اھل اسلام روزہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر کیا ہم اسکے اصل مقصد سے بھی حقیقی واقفیت رکھتے ہیں ؟

زورہ کا حکم و مقصد ؟ پرھیزگار بن جاو: ؟سورۃ البقرہ 183. اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کئے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔ ( پرھیزگار معنی ھر برائی سے باز اور فقط نیکی کرنے والا ) کون کون حقیقی پرھیزگار بنتا ہے ) ( ترجمعہ عرفان القرآن ڈاٹکام )
اگر دل و اعمال نہ بدلیں تو روزہ بے فائدہ ہے؟: ﷲ تعالیٰ سے کوئی اجر نہیں ملے گا؟
حدیت مبارکہ : صحیح البخاری: ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا ، ان سے سعید مقبری نے ، ان سے ان کے والد کیسان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی شخص جھوٹ بولنا اور دغابازی کرنا ( روزے رکھ کر بھی ) نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے ۔( قرآن ڈاٹکام)
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ ‏”‏‏.‏
Reference: Shih al-Bukhari 1903
متی کی معرفت انجیل باب 6، روزہ کے بارے میں تعلیِم ( دکھاوا ، ریاکاری یا؟ )
16اور جب تُم روزہ رکھّو تو رِیاکاروں کی طرح اپنی صُورت اُداس نہ بناؤ کیونکہ وہ اپنا مُنہ بِگاڑتے ہیں تاکہ لوگ اُن کو روزہ دار جانیں ۔ مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ وہ اپنا اجر پا چُکے۔ 17بلکہ جب تُو روزہ رکھّے تو اپنے سر میں تیل ڈال اور مُنہ دھو۔ 18تاکہ آدمی نہیں بلکہ تیرا باپ جو پوشِیدگی میں ہے تُجھے روزہ دار جانے ۔ اِس صُورت میں تیرا باپ جو پوشِیدگی میں دیکھتا ہے تُجھے بدلہ دے گا۔
اصل روزۃ خدا تعالیٰ کیا چاھتا ہے؟اور ہم کیا چاھتے ہیں ؟: یسعیاہ کی کتاب باب ۵۸ ۔حقِیقی روزہ ؟
1گلا پھاڑ کر چِلاّ ۔ دریغ نہ کر ۔ نرسِنگے کی مانِنداپنی آواز بُلند کر اور میرے لوگوں پر اُن کی خطا اور یعقُو ب کے گھرانے پر اُن کے گُناہوں کو ظاہِر کر۔ 2وہ روز بروز میرے طالِب ہیں اور اُس قَوم کی مانِندجِس نے صداقت کے کام کِئے اور اپنے خُدا کے احکام کوترک نہ کِیا میری راہوں کو دریافت کرنا چاہتے ہیں ۔ وہ مُجھ سے صداقت کے احکام طلب کرتے ہیں ۔ وہ خُدا کی نزدِیکی چاہتے ہیں۔3وہ کہتے ہیں ہم نے کِس لِئے روزے رکھّے جبکہ تُو نظرنہیں کرتا اور ہم نے کیوں اپنی جان کو دُکھ دِیا جبکہ تُو خیال میں نہیں لاتا؟دیکھو تُم اپنے روزہ کے دِن میں اپنی خُوشی کے طالِب رہتے ہو اور سب طرح کی سخت مِحنت لوگوں سے کراتے ہو۔ 4دیکھو تُم اِس مقصد سے روزہ رکھتے ہو کہ جھگڑا رگڑاکرو اور شرارت کے مُکّے مارو ۔ پس اب تُم اِس طرح کاروزہ نہیں رکھتے ہو کہ تُمہاری آواز عالِم بالا پرسُنی جائے۔ 5کیا یہ وہ روزہ ہے جو مُجھ کو پسند ہے؟ اَیسا دِن کہ اُس میں آدمی اپنی جان کو دُکھ دے اور اپنے سر کو جھاؤکی طرح جُھکائے اور اپنے نِیچے ٹاٹ اور راکھ بِچھائے؟کیا تُو اِس کو روزہ اور اَیسا دِن کہے گا جو خُداوند کامقبُول ہو؟۔6کیا وہ روزہ جو مَیں چاہتا ہُوں یہ نہیں کہ ظُلم کی زنجِیریں توڑیں اور جُوئے کے بندھن کھولیں اور مظلُوموں کو آزاد کریں بلکہ ہر ایک جُوئے کو توڑ ڈالیں؟۔ 7کیا یہ نہیں کہ تُو اپنی روٹی بُھوکوں کو کِھلائے اور مِسکِینوں کو جو آوارہ ہیں اپنے گھر میں لائے اورجب کِسی کو ننگا دیکھے تو اُسے پہنائے اور تُو اپنے ہم جِنس سے رُوپوشی نہ کرے؟۔8تب تیری روشنی صُبح کی مانِند پُھوٹ نِکلے گی اور تیری صِحت کی ترقّی جلد ظاہِر ہو گی ۔ تیری صداقت تیری ہراول ہو گی اور خُداوند کا جلال تیرا چنڈاول ہو گا۔ 9تب تُو پُکارے گا اور خُداوند جواب دے گا ۔ تُو چِلاّئے گااور وہ فرمائے گا مَیں یہاں ہُوں ۔اگر تُو اُس جُوئے کو اور اُنگلِیوں سے اِشارہ کرنے کو اور ہرزہ گوئی کواپنے درمِیان سے دُور کرے گا۔ 10اور اگر تُو اپنے دِل کو بُھوکے کی طرف مائِل کرے اورآزُردہ دِل کو آسُودہ کرے تو تیرا نُور تارِیکی میں چمکے گااور تیری تِیرگی دوپہر کی مانِند ہو جائے گی۔

]]>
https://zindagitv.online/tv-shows/%__tv_shows_id%/feed/ 0
سارے آدمی نجات پائیں https://zindagitv.online/tv-shows/%__tv_shows_id%/ https://zindagitv.online/tv-shows/%__tv_shows_id%/#respond Mon, 23 May 2022 10:40:01 +0000 http://ztv.altarik.net/?p=17246 Read more »]]> ’’وہ (خدا ) چاہتا ہے کہ سارے آدمی نجات پائیں اور سچائی کی پہچان تک پہنچیں کہ خُدا ایک ہے اور خدا اور آدمیوں کے بیچ ایک آدمی بھی درمیانی ہے وہ یسوع مسیح ہے‘‘ )۱۔تیمتھیس ۲باب ۵،۴ آیات)۔ اس میں شک نہیں کہ زمانہ حال میں اکثر آدمی نہ صرف یورپ و امریکہ میں بلکہ پاکستان اور دیگر ممالک میں ایسے ملحدوبےد ین (کافر)پائے جاتے ہیں۔ جو دُنیا میں بے اُمید اوربے خُد ا ہو کر اپنی زندگی بسر کرتے۔ اور بالآخر کف افسوس(پچھتانا) ملتےہوئے بلا چاری موت کے قبضہ میں ہمیشہ کے لئے پھنس جاتے ہیں اور ایک ایسے عالم میں جاپہنچتے ہیں جہاں رونا اور دانٹ پیسنا(غصہ دکھانا) ہوتا اور جہاں کی آگ کبھی نہیں بُجھتی اور کیڑا کبھی نہیں مرتا۔ تاہم دُنیا میں مختلف مذاہب والے کرو ڑہا کروڑ بنی آدم ہیں جو اس بات کے مُقر(ماننے والے) اور معتقد (اعتقاد رکھنے والے)ہیں کہ ضرور ایک خدا ہے جو سبھوں کا خالق و مالک ہے اور جس کی اطاعت و عبادت (فرمانبرداری و بندگی)کرنا سبھوں پر واجب و لازم ہے۔ وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ خدا عادل و قدوس اور بنی آدم گنہگار و قصور وار ہیں۔ اوراسی لئے انہوں نے اپنی نجات اور حصول ِمعافی کے لئے کسی نہ کسی طرح کا ذریعہ اپنے لئے ٹھہرا رکھا ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ ان کے اعمال حسنہ(نيک کام) ان کی نجات کا کافی ذریعہ ہیں۔ اور خدا کے ساتھ صلح اور ملاپ حاصل ہونے کے لئے کسی درمیانی کی ضرورت مطلق(بالکل) نہیں ہے۔ بہتوں نے اعمال نیک کے سوا ایک شفیع(شفاعت کرنے والا) یا درمیانی کی ضرورت بھی معلوم کر کے کسی پیرو پیغمبر یا دیوی دیوتا کو اپنی نجات کا وسیلہ ۔ یا شفاعت کرنے والا اور خدا سے ملا دینے والا سمجھ رکھا ہے۔ اور باوجود دیکھا ۔ ان من مانے درمیانیوں اور شفاعت کنندوں کی عام کمزوریوں اورعمدی وسہوی(بڑی غلطی) خطاؤں اور تقصیروں (گناہوں)سے واقف ہیں۔ تاہم ان کی ایسی باتوں کو ترک اولیٰ یا لیلا وغیرہ کہہ کے انہیں کی شفاعت اور دستگیری(مدد) پر اپنی اخروی بہبود و نجات(آخرت کی بھلائی اور رہائی) کا بھروسہ کئے ہوئے ہیں۔ خدا اور انسان کے درمیان ایک شفیع و درمیانی کی ضرورت گنہگار آدمی کے دل میں قدرتی طور پر ایسی جمی ہوئی ہے کہ وہ کسی دلیل و دلائل سے ہرگز مٹ نہیں سکتی۔ تو بھی بعض آدمی اس خیال میں اپنے کو مطمئن کئے ہوئے ہیں کہ صرف خدائے واحد کی ہستی کا معتقد (اعتقاد رکھنا)ہونا۔ انسان کی نجات کے لئےکافی و وافی ہے۔ چنانچہ گذشتہ سفر میں ایسا واقع ہوا کہ ہم بمعیت(ساتھ, ہمراہی) ایک میڈیکل مشنری صاحب کے ایک نوجوان مسیحی لڑکی کو جو قریب المرگ تھی دیکھنے کے لئے اس کے مکان پر گئے ۔ اورجب ڈاکٹر صاحب موصوف نے دو تین مرتبہ اس لڑکی کو بنام پکارا تو اس نے آنکھیں کھول کے ہم لوگوں کو دیکھا۔ ڈاکٹر صاحب نے اس سے کہا کہ تمہاری دلی حالت اس وقت کیسی ہے؟ کیا تم اپنے نجات دہندہ خداوند یسوع مسیح پر بھروسہ رکھتی ہو کہ وہ تمہیں بچائے گا۔ اور تمہاری مدد کرے گا؟ اس نے بآہستگی جو اب دیا کہ ’’ہاں ‘‘ اور یہ کہہ کے آنکھیں بند کرلیں۔ مریضہ کی حالت سے ظاہر تھا کہ وہ چند گھنٹے کی مہمان ہے۔ جب ہم باہر نکلے تو اس لڑکی کا باپ جو ایک صرف نامی مسیحی تھا۔ کہنے لگا صاحب ! کون نہیں جانتا کہ ایک پر میشور ہے۔ اور جب کوئی انسان یہ جانتا اور مانتا ہے تو بس پھر کیا ضرورت ہے کہ اس کو یہ کہا جائے کہ کیا تم یسوع مسیح پر بھروسہ رکھتے ہو۔ اس نامی مسیحی کی اس بات کو سن کر ہمیں نہایت افسوس ہوا۔ اور اس کو بتلا یا کہ یہ جاننا کہ خدا ایک ہے اچھی بات ہے ۔لیکن نجات کے لئے کافی نہیں ہے بلکہ گنہگار انسان کے لئے ضرور ہے کہ وہ اس امر(کام) کا معتقد(اعتقاد رکھنا) ہو کہ ’’ خدا ایک ہے اور خدا اور آدمیوں کے بیچ ایک آدمی بھی درمیانی ہے وہ یسوع مسیح ہے‘‘۔ نہایت افسوس کی بات ہے کہ اکثر لوگ ایسا سمجھتے ہیں کہ خدا کو واحد جاننا نجات حاصل کرنے کے لئے بس ہے۔ یعقوب رسول فرماتا ہے کہ ’’تو ایمان لاتا ہے کہ خدا ایک ہے اچھا کرتا ہے پر شیاطین بھی یہی مانتے اور تھرتھراتے ہیں‘‘( یعقوب ۱۹:۲)۔پس درحالیکہ شیاطین مانتے اور یقین کرتے ہیں کہ خدا واحد ہے تو بھی ان کے لئے یہ عقیدہ مفید اور نجات بخش نہیں ٹھہرسکتا ۔ ہم ان لوگوں کی حالت پر افسوس کرتے ہيں جو اس بات پر بھروسہ کئے بیٹھے ہیں کہ جو کوئی کہے گا کہ کہ لا الہٰ الا اللہ وہ داخل جنت ہو گا ۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ خدائے قدوس اور گنہگار آدمیوں کے بیچ میں جو شخص شفیع اور درمیانی ہو وہ کامل(مکمل) اور پاک انسان ہو ۔ خداوند مسیح نے یہودیوں سے فرمایا کہ ’’ تم خدا پر ایمان لاتے ہو مجھ پر بھی ایمان لاؤ‘‘۔ اسی لئے آیات عنوان میں پولوس رسول نے فرمایا کہ ’’وہ چاہتا ہے کہ سب آدمی نجات پائیں اور سچائی کی پہچان تک پہنچیں کہ خدا ایک ہے اور خدا اور آدمیوں کے بیچ ایک آدمی بھی درمیانی ہے وہ یسوع مسیح ہے‘‘ ۔ پس جو شخص خدا کو واحد جاننا اپنی نجات کے لئے کافی سمجھے۔ اور خدا وند یسوع مسیح کو درمیانی نہ جانے وہ اپنے کو فریب دیتا ہے۔

]]>
https://zindagitv.online/tv-shows/%__tv_shows_id%/feed/ 0
پیشین گوئیوں میں مسیح کا جلال https://zindagitv.online/tv-shows/%__tv_shows_id%/ https://zindagitv.online/tv-shows/%__tv_shows_id%/#respond Wed, 18 May 2022 11:10:22 +0000 http://ztv.altarik.net/?p=16850 Read more »]]> یہ بات بہت اہمیت کی حامل ہے کہ ہم تندہی سے اُس کے الہام کی حقیقت کو تلاش کریں جس کے ذریعے اُس نے اپنا کلام نازل کیا ہے۔اوراگرہم ایسا کرتے ہیں کہ توخدا تعالیٰ ہماری راہنمائی کرے گا۔کلام الہٰی میں سینکڑوں ایسی پیشین گوئیاں ہیں جن کا نقطہ نظر جناب مسیح کی ذاتِ اقدس ہے۔ جیسے کہ قرآن شریف کی سورہ 43کی آیت 63 میں مسیح فرماتے ہیں”فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ ترجمہ:خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو۔اورپھر سورہ 7کی آیت 178 میں مسلمانوں کو حکم ملا ہےکہ  مسیح اور انجیل اور توریت پر ایمان لائیں۔مسلمانوں کو یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ انبیاء کرام مسیح کے بارے میں کیا فرماتے ہیں۔

          (تاہم بہت سےلوگ اس غلطی فہمی کا شکار ہیں کہ نعوذ باللہ انجیل شریف میں تحریف ہوئی ہے۔لیکن یہ جاننے کے لئے کلام الہٰی میں کوئی تحریف نہیں ہوئی  اس کے لئے آپ ہمارا کتابچہ (حقانیت کتاب مقدس ) ضرور مطالعہ فرمائیں۔

اہلِ یہود کے لئے یہ بات واقع بہت مشکل ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ کو اپنا مسیح موعود (یونانی لفظ کرائسٹ) قبول کریں۔کچھ یہ خیال کرتے تھے کہ وہ آپ اُستادِ عظیم ہیں۔ کچھ کہتے تھے کہ آپ نبی ہیں۔ دوسری جانب کچھ لوگ یہ کہتے تھے کہ مسیح جو معجزات کرتے ہیں وہ شیطان کی مدد سے کرتے ہیں۔ بعض یہ کہتے تھے کہ جیسے کہ اُن میں ہیرودیس بادشاہ تھا جس کا یہ خیال تھاکہ آپ حضرت یحییٰ اصطباغی ہیں جو مردوں میں سے جی اٹھے ہیں۔بعض نے آپ کو بادشاہ بنانے کی کوشش کی۔اور باقیوں نے آپ کو مسیح موعود تسلیم کرلیا۔

وہ لوگ جو یہودی توراۃ میں متلاشی خدا ہیں وہ اس بات سے واقف ہوجاتے ہیں کہ مسیح موعود کی دوایسی خصوصیات ہیں جو ایک دوسرے سے تضاد ہیں۔ پہلی کہ وہ "مسیح موعود دکھ اٹھائے گا”۔ اور دوسرا” مسیح موعود بادشاہ ہوگا”۔تاج کی طرف جانے کاراستہ صلیب ہے۔مسیح ہونے کی وجہ سے خدا کاکلمہ لامحدود قدوقامت رکھتاہے۔ لیکن ہماری نجات کی خاطر اس کا دکھ اٹھانالازمی تھا جیسے کہ بہت سے انبیاء کرام اس کی پیدائش سے سینکڑوں  اور ہزاروں برس پہلے پیشین گوئیاں کیں۔

مندرجہ ذیل حوالہ جات کے ایک جامع فہرست نہیں ہیں:

]]>
https://zindagitv.online/tv-shows/%__tv_shows_id%/feed/ 0